’بھنگی‘ کہنا سلمان خان اور شلپا شیٹی کو مہنگا پڑ گیا | فن و ثقافت | DW | 25.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’بھنگی‘ کہنا سلمان خان اور شلپا شیٹی کو مہنگا پڑ گیا

بالی وڈ کے مشہور اداکار سلمان خان اور ان کی ایک ساتھی اداکارہ شلپا شیٹی کے ذات پات سے متعلق ایک متنازعہ بیان کے خلاف پولیس میں شکایت درج  کرا  دی گئی ہے۔ ان دونوں اداکاروں کے خلاف زبردست مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

sakشلپا شیٹی اور سلمان خان دونوں پر سر عام ’بھنگی‘ کا لفظ استعمال کرنے کا الزام ہے۔ ان دونوں کے خلاف ممبئی اور ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں مقدمہ درج کروایا گيا ہے۔

بھارت میں صفائی کے پیشے سے منسلک معروف برادری والمیکی کی فلاح وبہود کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’روزگار آگاڑی ریپبلکن پارٹی آف انڈیا‘ نے شلپا شیٹی اور سلمان خان کی جانب سے لفظ بھنگی استعمال کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے الفاظ سے ان کی برادری کی منفی تصویر پیش کی جاتی ہے۔

تنظیم کے نائب صدر کشور معصوم نے اس مقدمے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، ’’سلمان خان اور شلپا شیٹی کی جانب سے ایسے الفاظ کے استعمال کی ہم شدید طور پر مذمت کرتے ہیں۔ ہم نے پولیس میں شکایت درج کی ہے اور ہم گیلیکسی اپارٹمنٹ (سلمان خان اور ان کے اہل خانہ کی رہائش) کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کریں گے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں کشور معصوم نے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی بھی نہیں ہے، ’’انہیں صرف اشرافیہ نے اسٹار نہیں بنایا، دلت برادری کے لوگ بھی سلمان خان کے مداح ہیں اور ان کی فلمیں دیکھتے ہیں۔ ہمیں اس سے تکلیف پہنچی ہے۔‘‘

سلمان خان اور کترینہ کیف کی فلم ’ٹائیگر ابھی زندہ ہے‘جمعے کو ریلیز ہوئی ہے۔ اسی فلم سے متعلق ایک تشہیری انٹرویو کے دوران سلمان نے لفظ ’بھنگی‘ کا استعمال کیا تھا۔ یہ لفظ انہوں نے اپنے لیے استعمال کیا تھا لیکن اس بیان والا ویڈیو اب وائرل ہوچکا ہے۔ اداکارہ شلپا شیٹی نے بھی اپنے ایک لباس یا طرز لباس کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ’میں بالکل بھنگی لگ رہی ہوں‘۔

پولیس میں یہ شکایت تنظیم کے جنرل سیکریٹری نوین رام چندر لاڈے نے درج کروائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے سماج کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، ’’ہم نے شکایت درج کی ہے۔ قانون کے مطابق اس طرح کی حرکت پر دونوں کو پانچ برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔‘‘

سلمان خان ریپ سے متعلق بیان کے باعث شدید تنقید کی زد میں

’دبنگ خان‘ کو پانچ سال قید کی سزا

’خانوں کی فلمیں نہ دیکھو‘، ہندو لیڈر

تنظیم کے وکیل کی جانب سے بھی اس بارے میں ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ سلمان خان نے کترینہ کیف کے ساتھ ایک ٹی وی شو کے دوران ہتک آمیز لفظ ’بھنگی‘ کا استعمال کیا۔ اداکارہ شلپا شیٹی نے بھی اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہا ’میں ایک بھنگی کی طرح دکھتی ہوں۔‘

اس دوران اداکارہ شلپا شیٹی نے ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ اگر ان کے بیان سے کسی کو ٹھیس پہنچی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں، ’’ماضی کے میرے ایک انٹرویو کے بعض الفاظ کے غلط معنی نکالے گئے ہیں۔ یہ کسی کے بھی احساسات کو ٹھیس پہنچانے کی نیت سے کبھی بھی نہیں کہے گئے۔ اگر کسی کو ٹھیس پہنچی ہو تو میں معذرت پیش کرتی ہوں۔ میرا تعلق اس ملک سے ہے جہاں مختلف ذات اور طبقے کے لوگ رہتے ہیں اور میں ان سبھی کا عزت و احترام کرتی ہوں۔‘‘

اس سلسلے میں ابھی سلمان خان کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم ان کی رہائش کے باہر دھرنے اور احتجاج کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔

ان کی فلم ’ٹائیگر ابھی زندہ ہے‘ کی ریلیز کے موقع پر ریاست راجستھان کے مختلف مقامات پر والمیکی برادری کے لوگوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کیے۔ ریاست کے ان تمام سنیما ہالوں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور بہت سے تھیئٹرز میں فلم کو نہیں چلنے دیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ سلمان خان کے ہتک آمیز لفظ کے استعمال سے نالاں ہیں اسی لیے فلم کی نمائش کے خلاف ہیں۔

والمیکی برادری سے تعلق رکھنے والی ایک ریاستی تنظیم ’والمیکی یوا سنگٹھن‘ کا کہنا ہے کہ سلمان خان اور شلپا شیٹی نے ’بھدی زبان‘ استعمال کر کے ایک خاص برادری کی توہین کی ہے۔ اس تنظیم کے احتجاجی مظاہروں میں سلمان اور شلپا کے پتلے بھی جلائے گئے اور نعرے بازی کی گئي۔ حکام کے مطابق اس کی وجہ سے اجمیر اور کشن گڑھ جیسے اضلاع میں حالات کشیدہ ہوگئے تھے لیکن اب حالات معمول پر ہیں۔

سلمان خان جس قدر فلموں میں اپنے رول، اداکاری اور انداز کے لیے معروف و مقبول ہیں اسی قدر وہ تنازعات میں بھی گھرے رہتے ہیں۔ ان پر کئی مقدمات چل رہے ہیں جس میں سے سب سے اہم ان کی گاڑی کا فٹ پاتھ پر سونے والے مزدوروں پر چڑھنا ہے۔ ایک اہم مقدمہ کالے ہرن کے شکار کا معاملہ ہے۔ یہ واقعہ سن  1998 میں اس وقت پیش آیا تھا ، جب وہ اپنی فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی راجستھان میں شوٹنگ کر رہے تھے۔ ان دونوں کیسز میں نچلی عدالتوں نے تو سلمان خان کے حق میں فیصلہ کیا ہےتاہم یہ مقدمے ابھی سپریم کورٹ میں چل رہے ہیں۔

DW.COM