1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بھرتيوں کے ليے انتہا پسندوں کا ہدف، جرمنی ميں قائم مہاجر کيمپ

جرمنی کی داخلی انٹيليجنس ايجنسی نے انکشاف کيا ہے کہ اسے سينکڑوں ايسے واقعات کی رپورٹيں موصول ہوئی ہيں جن ميں مسلمان انتہا پسندوں نے مہاجر کيمپوں ميں پناہ گزينوں کو ورغلانے اور اپنے گروپوں ميں بھرتی کرنے کی کوشش کی ہے۔

جرمنی کے وفاقی دفتر برائے تحفظِ آئين کے سربراہ ہنس گيورگ ماسين نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتايا، ’’ہميں اب تک اس سلسلے ميں 340 واقعات کی رپورٹيں موصول ہو چکی ہيں۔ تاہم يہ تعداد صرف ان کيسوں کی ہے جن کی حکام کو اطلاع ہے۔ يہ کہا جا سکتا ہے کہ يہ تعداد اور بھی زيادہ ہو سکتی ہے۔‘‘ ماسين نے مزيد بتايا کہ ملک بھر ميں قائم مہاجرين کی رہائش گاہوں اور کيمپوں ميں خدمات انجام دينے والے رضاکاروں کو اس بارے ميں مطلع کر ديا گيا ہے۔

جرمنی کی داخلی انٹيليجنس ايجنسی کے ايک محتاط اندازے کے مطابق شدت پسندانہ مسلم سوچ کے حامل افراد کی تعداد ملکی سطح پر تقريباً تينتاليس ہزار ہے اور اس تعداد ميں گزشتہ چند برسوں کے دوران بدستور اضافہ نوٹ کيا گيا ہے۔ داخلی سلامتی کی نگران اور ديگر ايجنسيوں کے حوالے سے يہ کہا جا سکتا ہے کہ ان ميں سے قريب گيارہ ہزار افراد دہشت گردانہ رجحانات کے حامل ہيں۔ مزيد يہ کہ ان گيارہ ہزار افراد ميں سے صرف پانچ سو کے بارے ميں يہ مانا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردانہ کارروائی کرنے کی اہليت رکھتے ہيں۔ يہ امر بھی اہم ہے کہ پچھلے کچھ سالوں ميں جرمنی سے تقريباً آٹھ سو انتہا پسندوں نے لڑائی میں شمولیت کے ليے شام اور عراق کا رخ کيا اور کئی نے وہاں جا کر مشرق وسطیٰ ميں سرگرم دہشت گرد تنظيم اسلامک اسٹيٹ ميں شموليت اختيار کر لی۔ شام اور عراق جانے والوں کی ايک تہائی تعداد واپس جرمنی بھی آ چکی ہے۔

اسی دوران سلفی اسلام کے حاميوں کی تعداد ميں پچھلے چند برسوں ميں واضح اضافہ ہوا ہے۔ اس تحريک کے حاميوں کی موجودہ تعداد 8,650 ہے۔ وفاقی دفتر برائے تحفظِ آئين کے سربراہ نے کہا کہ يہ بات قابل فکر ہے کہ سلفی مسلمان مہاجر کيمپوں ميں اپنی مہم چلا رہے ہيں۔ ان کا مزيد کہنا تھا، ’’ہم اس بات سے واقف ہيں کہ پناہ گزينوں کی صفوں ميں کافی زيادہ سنی مسلمان شامل ہيں۔ يہ لوگ عموماً خاصے قدامت پسند پس منظر کے حامل ہوتے ہيں اور جمعے کے جمعے کسی عرب مسجد ميں جا کر نماز ادا کرنے کو ہی ترجيح ديتے ہيں۔‘‘ مازين نے يہ بھی بتايا کہ جرمنی ميں انتہا پسند سلفی مسلمانوں کے زير انتظام کئی مساجد چل رہی ہيں۔

ڈی پی اے سے بات چيت کے دوران جرمنی کے وفاقی دفتر برائے تحفظِ آئين کے سربراہ ہنس گيورگ ماسين نے کہا کہ جن مساجد ميں عربی زبان بولی جاتی ہيں، انہيں ريگوليٹ نہيں کيا جاتا۔ يہی وجہ ہے کہ رياست اس معاملے ميں زيادہ کچھ نہيں کر سکتی۔ ماسين کے بقول جرمنی ميں گزشتہ ماہ ہونے والے چند حملوں سے قبل بھی اسلامی انتہا پسندی سے متاثرہ حملے ہو چکے ہيں۔ انہوں نے ہينوور ميں ايک پوليس اہلکار کی ہلاکت اور ايسن ميں ايک سکھ گردوارے پر حملے کی مثاليں دی۔

ہنس گيورگ ماسين نے کہا کہ سبق يہ سيکھنا چاہيے کہ تمام تر توجہ صرف اس طرف نہ دی جائے کہ اسلامک اسٹيٹ اپنے دہشت گرد يورپ روانہ کر سکتی ہے يا کر رہی ہے بلکہ يہ بھی ديکھا جائے کہ جو لوگ ان ملکوں ميں ہی انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہيں، انہيں بھی دہشت گردانہ حملوں پر مائل کیا جا سکتا ہے۔