1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھاشا ڈیم کی تعمیر 2010 ء سے شروع ہوگی: وفاقی وزیر راجہ پرویز

قومی اقتصادی کونسل کی مجلس عاملہ (ایکنک) نے 977 ارب روپے مالیت کے جن چھبیس ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پانی و بجلی کے شعبے سے ہے۔

default

بھاشا ڈیم سے ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بڑی مدد ملے گی

ایکنک کے ایک اجلاس کے بعد وزیر پانی و بجلی کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراطلاعات قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی اولین ترجیح ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانا اور مستقبل میں توانائی کی کمی سے بچنے کی پیش بندی کرنا ہے۔ وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں ایکنک نے 894 ارب روپے کی لاگت سے دیامر بھاشا ڈیم تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

کائرہ نے کہا: ”ملک کے سستی بجلی فراہم کرنے اور پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد کو بڑھانے کےلئے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں اور صوبائی اور دیگر حکومتوں کو کہہ دیا گیا ہے کہ اس منصوبے کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔“

جمعرات کے روز مشترکہ کانفرنس کے دوران پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ شمالی علاقہء جات ضلع دیامر میں دریائے سندھ پر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے 4500 میگا واٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی جبکہ بقول ان کے ڈیم میں ذخیرہ کئے گئے پانی کے ذریعے لاکھوں ہیکڑ زرعی اراضی کو بھی سیراب کیا جا سکے گا۔

BdT Welt Tag des Wassers

پاکستان میں کئی دریا پانی کی کمی کا شکار ہیں

وزیر نے مزید کہا:”یہ منصوبہ پاکستان کے لئے لائف لائن پراجیکٹ ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس میں پانی ذخیرہ ہوگا اور اس سے بجلی حاصل کی جا سکے بلکہ انڈس ریور سسٹم پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ اور ایریگیشن سسٹم کے ذریعے 35 ملین ہیکڑ رقبے تک پانی کی رسائی ممکن ہو سکے گی۔“

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اکتوبر2010ء میں ڈیم کی باقاعدہ تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا جو آٹھ سے دس سال کے عرصے میں مکمل ہوگا۔ وفاقی وزیر کے مطابق بھاشا ڈیم منصوبے کی تکمیل کےلئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے بھی 313 ارب روپے مہیا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

دریں اثناء وزارت پانی و بجلی کے ایک اعلامیے کے مطابق گرمی کی شدت میں کمی اور حالیہ بارشوں سے آبی ذخائر میں اضافے کے بعد ملک میں بجلی کی یومیہ کمی 2000 میگا واٹ سے کم ہو کر 500 میگا واٹ رہ گئی ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: گوہر نذیر گیلانی