1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: 36 جنگی طیارے خریدنے کی منظوری

بھارت نے طویل تاخیر کے بعد فرانس سے اربوں ڈالر مالیت کے چھتیس رافائل جنگی طیارے خریدنے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ نئی دہلی حکومت خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ اور پاکستان کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔

بھارتی وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی کابینہ کمیٹی نے فرانسیسی کمپنی ڈاساؤ کے بنائے ہوئے جنگی طیارے خریدنے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کابینہ کا یہ اجلاس نئی دہلی میں ہوا۔ ممکنہ طور پر فرانس اور بھارت کے وزرائے دفاع آئندہ جمعے کے روز اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔

ایک بھارتی عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ’’اس معاہدے کی منظوری شام کو ہونے والی ایک میٹینگ میں دی گئی ہے۔‘‘ اس عہدیدار کا مزید کہنا تھا، ’’اب تئیس ستمبر کو دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع اس پر دستخط کر دیں گے۔‘‘

اس عہدیدار کے مطابق معاہدے کی تفصیلات ابھی عام نہیں کی جا سکتیں اور یہ کہ باقی تفصیلات فرانسیسی وزیر کے دستخط ہونے کے بعد ہی عام کی جائیں گی۔ بھارت کے مقامی میڈیا کے مطابق حکومت یہ جنگی طیارے خریدنے کے لیے فرانس کو 8.8 ارب ڈالر ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

Frankreich Indien Premierminister Narendra Modi bei Laurent Fabius in Paris

گزشتہ برس فرانس کا دورہ کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت فرانس سے جنگی طیارے خریدنا چاہتی ہے

بھارتی حکومت ان جنگی طیاروں کے ذریعے اپنی ایئر فورس کے پرانے جہازوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ ان طیاروں کی خریداری کا عمل سن دو ہزار بارہ میں شروع ہوا تھا لیکن کئی شرائط کی وجہ سے ابھی تک اس پر پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

ابتدائی طور پر بھارت فرانس سے 126 جنگی طیارے خریدنا چاہتا تھا لیکن مذاکرات میں اس وقت مشکلات پیدا ہونا شروع ہوئیں، جب فرانس نے ان کی قیمت اور ان کی بھارت میں تیاری سے متعلق نئی دہلی حکومت کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد بھارتی حکومت نے فرانس سے صرف چھتیس طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔

گزشتہ برس فرانس کا دورہ کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت فرانس سے جنگی طیارے خریدنا چاہتی ہے اور یہ کہ سوویت دور کے فوجی سازو سامان کو جدید بنایا جائے گا تاکہ پاکستان اور چین کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس کے بعد یہ معاملہ مشکلات کا شکار ہو گیا تھا۔ بعدازاں فرانسیسی صدر فرانسواں اولانڈ نے جنوری میں بھارت کا دورہ کرتے ہوئے ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن بھارتی حکام کے مطابق جہازوں کی قیمت کی وجہ سے مذاکرات ایک مرتبہ پھر جمود کا شکار ہو گئے تھے۔

نئی دہلی میں انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز کے گلشن لوتھرا کا کہنا تھا، ’’بھارت کو ان طیاروں کی شدید ضرورت ہے۔ انہیں کل خریدنا چاہیے تھا لیکن آج خریدا جا رہا ہے۔ بھارت اس معاہدے پر دیر سے پہنچا ہے لیکن یہ طیارے بہت ہی زبردست ہیں۔‘‘