1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: ہولناک ریل گاڑی حادثے کے پس پردہ ماؤ باغی

بھارت میں ریل گاڑی کے ہولناک حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد65سے تجاوز کر گئی ہے اور پولیس کے مطابق ریل گاڑی کے حادثہ ماؤ باغیوں کی دہشت گردانہ کارروائی ہے۔

default

ریل گاڑی کے حادثے کا مقام

حادثے کے مقام سے پولیس کو ماؤ نواز باغیوں کی حامی تنظیم  پولیس مظالم کے خلاف عوامی کمیٹی یا People's Committee against Police Atrocities (PCPA)  کے اشتہار بھی دستیاب ہوئے ہیں جس میں حادثے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ ان اشتہارات کی تصدیق انسپکٹر جنرل پولیس ایس کارپوراکے ساتھا نے کی ہے۔ دونوں اشتہاروں میں تعینات سکیورٹی فورسز کو واپس بلانے کا مطالبہ درج ہے۔ کارپوراکے ساتھا نے مزید بتایا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ریل کی پٹری کو گرفت کرنے والی فش پلیٹس ہٹائی گئی تھیں۔ حادثے کے پس پردہ ماؤ باغیوں کی موجودگی کا اشارہ بھارت کی وزیر ریلوے ممتا بینرجی نے بھی دیا ہے۔ اسی طرح بھارتی ریلوے کے بورڈ کے ممبر ٹریفک ویوک ساہی نے بھی حادثے کو ماؤ باغیوں کی ممکنہ کارروائی قرار دیا ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق تیز رفتار ٹرین کے ڈرائیور نے ایک زوردار دھماکہ سنا اور اس کے بعد ریل گاڑی کے کل چوبیس میں سے ایک درجن سے زائد ڈبے پٹری سے اترنا شروع ہو گئے۔ تیرہ میں سے پانچ بوگیاں

NO FLASH Indien Zugunglück

حادثے کی جگہ پر امدادی کارروائیوں کا عمل

قریبی ٹریک پر گر گئیں اور ان سے مخالف سمت سے آنے والی مال بردار گاڑی ٹکرا گئی اور اس باعث بے شمار ہلاکتیں ہوئیں۔ ڈبوں کو کاٹ کر زخمیوں اور نعشوں کو نکالا گیا۔  دھماکے والے مقام پر سے ریل کی پٹری اڑ گئی تھیں۔ حادثے کا شکار ہونے والی ریل گاڑی کے آگے آگے گشتی انجن بھی تھا جو بخیریت نکل گیا اور دھماکہ اس وقت ہوا جب مسافر بردار گاڑی گزر رہی تھی۔زخمیوں  کو ہسپتال پہنچانے کے لئے بھارتی ایئر فورس کے ہیلی کاپٹرز کا استعمال بھی کیا گیا۔ حادثے کی خبر سن کر بھارتی وزیر ریلوے بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئی تھیں۔ انہوں نے  ہرہلاک ہونے والے  کے پسماندگان کو پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کو ایک ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ حادثے پر بھارتی وزیر اعظم اور چین کے دورے پر گئی صدر پرتیبھا پاٹل نے گہرے رنج و الم

Indien Zugunglück

متاثرہ ریل گاڑی اور سکیورٹی اہلکار

کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے بھی ہلاک شدگان کے لواحقین کو دو دو لاکھ فی کس اور پچاس پچاش ہزار فی زخمی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب حادثے کے مسافروں نے امدادی کاروائیوں کے تاخیر سے شروع ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق حادثے کے تین گھنٹوں بعد امدادی عمل کا آغاز ہوا تھا۔

بھارت کے ماؤ نواز باغیوں نے رواں ہفتے کو سیاہ ہفتہ قرار دے رکھا ہے۔ اس ماہ میں ماؤ باغیوں کی یہ دوسری بڑی کارروائی ہے۔ اس کے قبل چھتیس گڑھ میں ایک بس کو بھی دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا اور اس میں کم از کم 36 انسان جاں بحق ہوئے تھے  جن میں سولہ خصوصی پولیس کے افسران تھے۔

بھارت میں بیس ہزار مسلح باغی سینکڑوں بھارتی اضلاع میں اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں۔ ان ہزاروں باغیوں میں چھ ہزار سے زائد گوریلے ہیں۔ یہ باغی سن 2050 تک حکومت کا تختہ الٹ دینے کا پلان کئے ہوئے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم کے مطابق ماؤ باغیوں کی مزاحمتی کارروائیں بھارتی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ اس مسلح تحریک کا آغاز سن 1967 میں مغربی بنگال کے ایک گاؤں نکسل باڑی سے ہوا تھا۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  سائرہ حسن

DW.COM