1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: ہندو قوم پرست تنظیم کی انٹرنیشنل افطار پارٹی

بھارت میں ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس نے آج بروز ہفتہ ایک بین الاقوامی افطار پارٹی کا اہتمام کیا جس میں کئی مسلم ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تاہم پاکستانی سفیر کی غیر موجودگی سے تقریب پھیکی رہی۔

Indien Nationalistische Partei RSS

افطار پارٹی میں شامی سفیر نے بھی شرکت کی۔

آر ایس ایس یا ’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ‘ کو مسلمانوں کے حوالے سے سخت مخالف نظریات اور پالیسی پر عمل پیرا تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ ’وشو ہند و پریشد‘ اور ’بجرنگ دل‘ جیسی درجنوں سخت گیر ہندو تنظیمیں اسی کی سرپرستی میں کام کررہی ہیں۔

آر ایس ایس سے وابستہ تنظیم ’مسلم راشٹریہ منچ‘ نے آج مسلمانوں کے لیے ایک بڑی افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔ جس میں کئی مسلم ممالک کے سفیروں، سفارت کاروں اور نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ گوکہ منچ نے 61 مسلم ممالک سمیت 140 غیر ملکی مشنوں کو افطار میں شرکت کی دعوت دی تھی تاہم ان میں سے بیشتر نے دوری اختیار کی۔

افطار پارٹی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی عدم شرکت اصل موضوع گفتگو رہا۔ گوکہ انہیں بھی دعوت دی گئی تھی لیکن گزشتہ دنوں بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے شہر پامپور میں دہشت گردانہ حملہ کے حوالے سے ان کے ایک بیان پر منتظمین نے ناراضگی ظاہر کی تھی۔ پہلے خبرآئی کہ منچ نے ان کا دعوت نامہ منسوخ کردیا ہے تاہم بعد میں منچ کے ایک رہنما نے اس کی تردید کر دی۔

منچ کے سرپرست اور آر ایس ایس کے سینئر کارکن اندریش کمار کا کہنا تھا، ’’میں ذاتی طور پر تمام مسلم ملکوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تشدد کی مخالفت اور بنیاد پرستی اور دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کریں ، کیوں کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کا نام بدنام ہوتا ہے۔ اسلامک اسٹیٹ، القاعدہ اور طالبان جیسی دہشت گرد تنظیمیں سماج کے لیے اچھی نہیں ہیں اور یہ اپنے مسلم بھائیوں کو ہی قتل کررہی ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ قومی تفتیشی ایجنسی نے بھارت اور پاکستان کے درمیان چلنے والی ٹرین ’سمجھوتہ ایکسپریس‘ اور مالیگاؤں بم دھماکوں میں اندریش کمارکے بھی ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔

مسلم راشٹریہ منچ کے قومی کنوینر گریش جویال کا کہنا تھاکہ ان کی تنظیم نے ہندوؤں کے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کو درمیان خلیج کو پاٹنے کے لیے اس افطار پارٹی کا اہتمام کیا ہے تاکہ ملک میں خیر سگالی اور دوستی کا ماحول پیدا ہوسکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس افطار پارٹی کے انعقاد میں نہ تو کوئی سیاست ہے اور نہ ہی کسی طرح کی ڈپلومیسی بلکہ ا س کا مقصد عالمی بھائی چارے کو فروغ دینا اوراس امر کو یقینی بنانا ہے کہ تمام مذاہب کے ماننے والے پرامن طور پر ایک ساتھ رہیں۔

جویال نے دعوی کیا کہ ان کی تنظیم پچھلے چودہ برسوں سے ملک بھر میں مختلف اضلاع میں محلہ کی سطح پر افطار پارٹی کا انعقاد کررہی ہے اور اب تک نو ہزار تین سو 33 افطار پارٹیاں دی جا چکی ہیں۔

اس افطار پارٹی پر دیگر ہندو قوم پرست تنظیموں نے سخت اعتراض کیا۔ ’اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا‘ نے ایک بیان میں کہا کہ آر ایس ایس کے بانی کیشو ہیڈگوار نے ہندوؤں کے مفادات کی حفاظت کے لیے یہ تنظیم قائم کی تھی لیکن سنگھ اس کے بجائے مسلم مفادات کی حفاظت کررہا ہے، جس کے لیے اسے ہندوؤں سے معافی مانگنی چاہئے۔

Indien Nationalistische Partei RSS

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ بھی افطار پارٹی میں شریک تھے۔

شیو سینا نے ایک بیان میں کہا، ’’آر ایس ایس کے ذریعہ افطار پارٹی کا مطلب یہ کہ تنظیم مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے نظریے سے بھٹک گئی ہے۔‘‘

اس صورت حال کے مدنظر آر ایس ایس کے سینئر رہنما من موہن ویدیہ کو ٹوئٹ کرکے وضاحت کرنی پڑی کہ یہ افطار پارٹی آر ایس ایس کی نہیں بلکہ راشٹریہ مسلم منچ کی ہے۔ منچ ایک آزاد تنظیم ہے البتہ آر ایس ایس قومی امور پر اس کے خیالات کی تائید کرتی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں 1980ء کی دہائی میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی طرف سے شروع کی گئی افطار پارٹی کا سلسلہ سیاسی کلچر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ سیاسی جماعتیں مسلمانوں میں اپنا امیج بہتر کرنے کے لیے اسے ایک اچھا موقع سمجھتی ہیں۔ ایک حلقہ ان افطار پارٹیوں تائیدکرتا ہے تودوسر ا اسے دینی معاملے میں سیاسی آلودگی قرار دیتا ہے ۔

دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ اس سال کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے اپنی روایتی افطار پارٹی نہیں دی۔ دوسری طرف صدر پرنب مکھرجی کی طرف سے دی گئی افطار پارٹی میں وزیر اعظم نریندر مودی مسلسل دوسرے برس بھی شریک نہیں ہوئے۔