1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت ہلاکت خیز کیمیکل انڈوسلفن پر پابندی کے خلاف

ایسے وقت میں جب انسانی صحت اور ماحولیات کے لئے خطرناک کیمیائی مادوں اور جراثیم کش ادویات پرعالمگیر پابندی عائد کرنے پر جنیوا میں غور جاری ہے، بھارت انڈوسلفن نامی جراثیم کش دوا پر پابندی عائد کرنے کے حق میں نہیں ہے۔

default

انڈوسلفن پر پابندی عائد کرنے کے حامی تنظیموں کے مطابق صرف ایک بھارتی ریاست کیرالہ میں ہی اس سے چار ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جبکہ بچوں سمیت ہزاروں دیگر افراد معذور بن زندگی کا بوجھ ڈھونے پر مجبور ہیں۔

انڈوسلفن وہ کیمیکل ہے جس کا استعمال ویتنام جنگ کے دوران امریکی فوج نے ویت کانگ گوریلوں کے خلاف کیا تھا۔ اسی وجہ سے وہاں اب بھی معذور بچے پیدا ہورہے ہیں۔ دنیا بھر کے تقریباﹰ80 ملکوں نے اس پر پابندی عائد کررکھی ہے لیکن بھارت میں اس کا استعمال جاری ہے۔

بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کے کئی اضلاع اور کرناٹک کے کچھ حصوں میں کاجو کے پودوں اور ناریل کے درختوں کو کیڑوں سے بچانے کے لئے بڑے پیمانے پر اس کیمیکل کا استعمال ہوتا ہے۔ ایک سروے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ کیرالہ کے صرف ایک ضلع کاسرگوڑ میں اس کیمیکل کے استعمال کی وجہ سے 9000 افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہوئے۔ ان میں سے 1000 سے زائد کی موت ہوگئی جب کہ 4800 معذور ہوگئے، جن میں بڑی تعداد کم عمر بچوں کی ہے۔ غیر سرکاری اعداو شمار کے مطابق کیرالہ کے 11 گاؤں میں اس کیمیکل کی وجہ سے تقریباﹰ 4000 افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔

دنیا بھر میں تیار ہونے والے انڈوسلفن کا 70فیصد سے زیادہ بھارت میں تیار کیا جاتا ہے

دنیا بھر میں تیار ہونے والے انڈوسلفن کا 70فیصد سے زیادہ بھارت میں تیار کیا جاتا ہے

غیر سرکاری تنظیمیں، سول سوسائٹی اور ماحولیات کو بچانے کے لیے سرگرم گروپ ایک عرصے سے اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں، لیکن بھارت سرکار اس کے لئے تیار نہیں ہے۔ وزیر زراعت شرد پوار نے پچھلے دنوں واضح لفظوں میں کہا تھا کہ اس پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، کیوں کہ اس کیمیکل کا پورے ملک میں بڑے پیمانے پر استعمال ہورہا ہے اور یہ 4500 کروڑ روپے کی انڈسٹری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین اور برازیل سمیت تقریباﹰ 40 ملکوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔

اس خطرنا ک جراثیم کش دوا پر پابندی لگانے کے لئے کیرالہ، کرناٹک اور ملک کے دیگر حصوں سے آئے سینکڑوں کارکنوں نے قومی دارالحکومت نئی دہلی میں مظاہرہ کیا۔ دوسری طرف کیرالہ کے وزیر اعلی وی ایس اچھوتا نندن نے ریاستی دارالحکومت ترواننت پورم میں سات گھنٹے کی بھوک ہڑتال کی، تاہم حکومت انڈوسلفن پر پابندی عائد کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے اس مسئلے پر کیرالہ سے ملاقات کے لئے آئے کل جماعتی وفد کو بھی ٹکا سا جواب ملا۔

اس کیمیکل کی تباہی کے مدنظر گوکہ کیرالہ اور کرناٹک کی حکومتوں نے اپنے طور پر اس پر پابندی عائد کررکھی ہے لیکن مرکزی وزیر شردپوار کا کہنا ہے کہ یہ ریاستیں اپنے طور پر پابندی لگانے کے لئے آزاد ہیں تاہم ملک گیر سطح پر پابندی عائد کرنا ممکن نہیں ہے۔ شرد پوار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک ماہرین کی چار کمیٹیوں نے انڈوسلفن کے اثرات کا مطالعہ کیا ہے لیکن انہیں کوئی خاص قابل تشویش بات دکھائی نہیں دی البتہ یہ ممکن ہے کہ بعض مقامات پر کسانوں نے اس جراثیم کش کیمیکل کا حد سے زیادہ استعمال کیا ہو۔

انڈوسلفن پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، بھارتی وزیر زراعت شرد پوار

انڈوسلفن پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، بھارتی وزیر زراعت شرد پوار

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈوسلفن سے کینسر سمیت متعدد بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ یہ جین پر اثرانداز ہوسکتا ہے، نروس سسٹم اور عورتوں کے تولیدی نظام کو بھی متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے نسل در نسل پیدا ہونے والے بچے لولے لنگڑے اور مختلف بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں تیار ہونے والے انڈوسلفن کا 70فیصد سے زیادہ بھارت میں تیار کیا جاتا ہے۔ بھارت میں سالانہ 12ملین لیٹر انڈوسلفن تیار کیا جاتا ہے جس کی قیمت 4500 کروڑ روپے ہے۔ 180 کروڑ روپے کا انڈوسلفن برآمد بھی کیا جاتا ہے۔ انڈوسلفن پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کا الزام ہے کہ بیوروکریٹوں، سرکاری اداروں اور کارپوریٹ گھرانوں کی ملی بھگت کے سبب یہ کاروبار جاری ہے۔

دریں اثناء ذرائع کے مطابق جنیوا میں جاری میٹنگ میں بھارت ایشیاء بحرالکاہل گروپ کے اندر انڈوسلفن پر پابندی عائد کرنے کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت: افسراعوان

DW.COM