1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے یوم جمہوریہ پر کشمیر میں تناؤ برقرار

بھارت میں آج بدھ کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت یوم جمہوریہ منایا جا رہا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اس موقع پر ہندو قوم پرستوں کی جانب سے بھارتی پرچم لہرانے کے لیے ریلی نکالنے کی کوششوں کی وجہ سے تناؤ برقرار ہے۔

default

یوم جمہوریہ پر بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر کے بڑے حصے کو فوجی ساز و سامان کی سالانہ پریڈ کے موقع پر سر بمہر کر دیا گیا۔ دہشت گردی کے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے صرف نئی دہلی میں ہی تقریباﹰ 35 ہزار پولیس اہلکاروں جبکہ 15 ہزار فوجی جوانوں کو تعینات کیا گیا۔ سالانہ پریڈ کے دوران حفاظت کے لیے نہ صرف ’سنائپرز‘ کی خدمات حاصل کی گئیں بلکہ کڑی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹرز اور غیر مسلح ڈرونز بھی فضا میں پروازیں کرتے رہے۔

BJP leader L K Advani

BJP کے رہنما ایل کے ایڈوانی

دوسری جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تناؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سرینگر کے لال چوک میں بھارتی پرچم لہرانے کی کوششوں کے لیے خصوصی ریلی نکالنے سے متعلق مہم ہے۔

بھاتی حکام کی جانب سے اس کوشش کو روکنے کے لیے گزشتہ روز جموں کشمیر کو ہمسایہ یونین ریاستوں سے ملانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے بھارت کے دیگر علاقوں سے آنے والے بی جے پی کے ہزاروں کارکنوں کو کشمیر کی سرحد سے ہی واپس لوٹا دیا گیا تھا۔ جموں کشمیر میں ریاستی حکومت اور نئی دہلی میں مرکزی حکومت کی جانب سے ’اشتعال انگیز‘ قرار دیے جانے والے اس مارچ کو روکنے کے لیے کی گئی اپیل کے بعد BJP کے چند سینئر رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

ادھر اس ہندو قوم پرست پارٹی کی جانب سے پرچم لہرانے کی کوشش کے ردعمل میں کشمیری علیحدگی پسند گروپ جموں کشمر لبریشن فرنٹ نے بھی اپنی پارٹی کا جھنڈا لال چوک میں لہرانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم کسی بھی نا خوشگوار واقعے یا تصادم سے بچنے کے لیے مسلح پولیس نے لال چوک کو سر بمہر کر دیا ہے اور وہاں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM