بھارت کے ٹیلی کام اسکینڈل میں ملوث سابق وزیر الزامات سے بری | حالات حاضرہ | DW | 21.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے ٹیلی کام اسکینڈل میں ملوث سابق وزیر الزامات سے بری

انڈیا کی ایک عدالت نے ایک سابق ٹیلی کام وزیر، سیاستدان اور تاجر کو ٹیلی کام لائسنسوں کے اجرا میں بد عنوانی کے الزامات کے تحت قائم کیے گئے مقدمے سے بری کر دیا ہے۔ عدالت کے مطابق اُن کے خلاف ثبوت ناکافی تھے۔

اَندی موتھو راجہ پر الزام تھا کہ جب سن 2008 میں بھارت میں مختلف ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو موبائل فونز کی سیکنڈ جنریشن کے لئے حقوق فروخت کیے گئے تھے تو ان کی قیمتیں اس وقت کی معمول کی تجارتی قیمتوں سے دانستہ طور پر کم رکھی گئی تھیں، جن سے بھارتی حکومت کو مبینہ طور پر اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ 

 ایک انڈین وفاقی آڈیٹر کا کہنا ہے کہ اس سے ممکنہ طور پر حکومت کو اٹھائیس بلین ڈالر کی خطیر رقم کے محصولات کا نقصان ہوا ہے۔

وفاقی تحقیق کار کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی عدالت نے سابق وزیر اے راجا سمیت دیگر افراد پر عائد الزامات پر آج اپنا فیصلہ سنایا۔

وکیل دفاع وجے اگروال نے صحافیوں کو جج کے فیصلے کے حوالے سے کہا،’’ استغاثہ اپنے لگائے الزامات کو ثابت کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو گیا ہے۔‘‘

اس اسکینڈل نے ملک کے اُسوقت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ اور اُن کی حکومت کے لیے بے پناہ مشکلات پیدا کر دی تھیں جس نے مارکیٹ سے کم قیمت پر ٹیلی کام لائسنسوں کی فروخت کی نگرانی کی تھی۔ اس اسکینڈل سے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

اَندی موتھو راجہ کے حوالے سے اس وقت کی ملکی اپوزیشن کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی  یہ مطالبے کر رہی تھی کہ مبینہ طور پر بدعنوانی کے مرتکب اس وزیر کو اپنی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو جانا چاہئے۔ اس تمام صورت حال کے تناظر میں اے راجا نے نومبر سن 2010 میں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

DW.COM