1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے مشترکہ سرمایہ کاری منصوبے اور یورپی یونین کی تشویش

بھارتی حکومت کئی بین الاقوامی سرمایہ کاری معاہدوں سے نکلنے کی کوشش میں ہے۔ نئی دہلی حکومت اِس مناسبت سے مذاکراتی عمل شروع کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ بیرونی ممالک میں مقدمہ بازی سے بچا جا سکے۔

رواں برس کے اوائل میں نریندر مودی حکومت نے مختلف ملکوں کی کاروباری شخصیات کے ساتھ طے شدہ سرمایہ کاری منصوبوں کی مدت ختم ہونے پر ایک نیا مذاکراتی عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بظاہر اِس حکومتی فیصلے سے یہ حکومتی منشا ظاہر ہوتی ہے کہ وہ غیرملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ غیرضروری مقدمے بازی سے بچنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب بارہ مہینے کے مذاکراتی عرصے کی شرط سے غیرملکی سرمایہ کاروں کے اندر یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ انہیں کاروبار میں گھاٹے کے علاوہ حکومت کو عدالت میں گھسیٹنے میں ناکامی ہو سکتی ہے۔

اِسی تناظر میں یورپی یونین کی خاتون ٹریڈ کمشنر سیسیلیا مالم اسٹروم نے بھارت کے وزرائے کامرس اور خزانہ کو ایک خط کے ذریعے متنبہ کیا ہے کہ اگر اگلے برس اپریل تک یورپی اقوام کے ساتھ متبادل معاہدات طے نہ کیے گئے تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ٹریڈ کمشنر کے مطابق متبادل سمجھوتے نہ ہونے سے غیرملکی سرمایہ کاری کو حاصل تحفظ ختم ہو جائے گا۔ خط میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بعض یورپی سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے ناموافق حالات پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

Belgien Brüssel EU-Gipfel Narendra Modi & Donald Tusk & Jean-Claude Juncker

بھارتی وزیراعظم یورپی یونین کے لیڈروں سے ملاقات کرتے ہوئے

یورپی یونین کو یہ بھی اندیشہ ہے کہ اگر نئی دہلی حکومت اپنے فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کو تبدیل کرنے میں ناکام رہی تو غیر ملکی سرمایہ کاری کی کوششوں کو گہرا دھچکا پہنچے گا۔ مالم اسٹروم کے مطابق بھارت یقینی طور پر نہیں چاہے گا کہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں کی جانب سے بھارت مں جاری کئی پراجیکٹس کے لیے سرمایہ کاری کا سلسلہ پٹری سے اتر جائے۔ یہ امر اہم ہے کہ عالمی سطح پر مختلف ممالک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کا معاملہ اقوام متحدہ کے سن 1980 میں قائم ہونے والے ادارے UNCTAD کے فیصلوں کی روشنی میں طے کیا جا رہا ہے۔

UNCTAD کے مختلف اجلاسوں میں غیرملکی سرمایہ کاری کے سمجھوتے طے کرنے کے لیے رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق سن 2012 سے کم از کم ساٹھ ملکوں نے غیرملکی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنے ملکی قوانین پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ ان ملکوں میں جنوبی افریقہ، برازیل اور انڈونیشیا نمایاں ہیں۔

بھارت میں بھی غیرملکی سرمایہ کار اپنے سرمائے کے بہتر تحفظ کے متمنی ہیں اور ٹھوس ضمانت چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں خیال کیا گیا ہے کہ اگر مذاکراتی عمل میں پیش رفت نہیں ہوتی اور پرانے سمجھوتوں کی مدت ختم ہو جاتی ہے تو بھارت کو کئی کاروباری معاملات میں شدید نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔