1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت کے مزدور یا قدیمی مصر کا منظر

بھارت میں لاکھوں بھٹہ مزدور ایک طرح سے جبری مشقت کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں، جہاں انہیں اجرت دینے میں بھی پیش و پس سے کام لیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی تنظیم برائے انسدادِ غلامی کے ایک جائزے کے مطابق بھارت کی شمالی ریاست پنجاب میں بھٹہ مزدوروں کو اکثر غیر سرکاری تنظیمیں ان کی اجرت دلانے میں مدد  اور جبری مشقت سے نجات دلانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ وہ بھارتی حکومت سے اس سلسلے میں جلد کارروائی کا مطالبہ بھی کرتی ہیں۔

بھارت میں ایک تخمینے کےمطابق کم از کم  ایک کروڑ بھٹہ مزدور گرم موسم میں  اور زندگی کے لیے انتہائی خطرناک آلودہ ماحول میں کام کر رہے ہیں۔

 انیٹوں کی بھٹیوں کو بھارت کے معاشی ڈھانچے کیے بنیاد قرار دیا جاتا ہے جن کی جدید بھارت کی تعمیر میں مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ جس میں بلند وبالا عمارتوں کی تعمیر سے لے کر  کارخانوں کی تکمیل شامل ہے۔ دنیا کی ساتویں بڑی معیشیت سمجھے جانے والے بھارت میں کام کرنے والے ان بھٹہ مزدوروں کا استحصال عام ہے۔  

پاکستان: انسانوں کی اسمگلنگ سالانہ قریب ایک ارب ڈالر کا کاروبار

زبردستی کی شادی سمیت 40 ملین افراد غلامی کا شکار

بھارت میں مزدور غلام بچوں کی تعداد ’لرزہ خیز‘ حد تک زیادہ

ان بھٹیوں کی تپتی آگ میں مٹی سے اینٹیں بنائی جاتی ہیں۔ ان بھٹیوں کی اردگرد کی فضا میں کوئلے کے ذرات انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہاں کام کرنے والے مزدور مرد، عورتیں اور بچے سروں پر اینٹیں اٹھائے ایک قطار میں بھٹوں پر چڑھتے اور اترتے قدیم مصر کا منظر پیش کرتے ہیں جیسے کوئی غلام کسی فرعون کے مقبرے کی تعمیر میں مشغول ہوں۔

غریب خاندان اکثر اپنے بچوں کو جبری مشقت کرنے پر مجبور کرتے ہیں جس کی اصل وجہ یہ ہے کی جتنی اینٹوں کی تعداد زیادہ ہوگی ان کو اجرت بھی اتنی زیادہ ملے گی۔

ویڈیو دیکھیے 02:08

لوٹ کے مقتل دیکھوں!

'انویزیبل چین' سروے کی رپورٹوں کے مطابق بھٹوں پر کام کرنے والوں میں ساٹھ سے اسی فیصد بچے ایسے ہیں، جن کی عمریں چودہ برس سے کم ہیں اور وہ دن میں نو گھنٹے شدید گرم موسم میں ان بھٹوں میں مزدوری کر نے پر مجبور ہیں۔

اس گروپ کی ایشیا کے لیے پروگرام مینیجر سارہ ماونت کے مطابق، ’’ہم نے یہاں جبری مشقت اور بچوں سے مزدوری کی سطح کو بے حد زیادہ پایا ہے۔ یہ بچے دن میں نو گھنٹے تک اس زہر آلود فضا میں مزدوری کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ اسکول کا بستہ اٹھایئں وہ اس گرد آلود بھٹی میں اینٹوں کے لیے مٹی اٹھاتے ہیں۔ ہم اکثر ان بھٹہ مزدوروں کو اس جبری مشقت کی صورتحال کے  چنگل سے آزادی دلاتے ہیں لیکن وہ پھر اس جال میں پھنس جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہوتا ہے۔‘‘

اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں میں کافی تعداد خواتین ورکرز کی ہے مگر بھٹے چلانے والوں کی طرف سے ان کا بطور ورکر الگ سے اندراج نہیں کیا جاتا اور نہ ہی انہیں ان کے شوہروں کو دی جانے والی تنخواہ کے علاوہ انہیں کچھ ملتا ہے۔

بھارت میں جبری مشقت غیر قانونی  ہے۔ لیکن قوانین عام طور پر قانون پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے کم زور پڑجاتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے والے اس سے اپنا کام چلا رہے ہیں۔

 

DW.COM

Audios and videos on the topic