بھارت کے ساتھ کشیدگی، پاکستانی فوج ’ہائی الرٹ‘ | حالات حاضرہ | DW | 22.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے ساتھ کشیدگی، پاکستانی فوج ’ہائی الرٹ‘

پاکستان کی ایئر فورس نے ملک کی مرکزی موٹر وے کو بند کرتے ہوئے جنگی طیاروں کی لینڈنگ اور پرواز کرنے کی مشقیں شروع کر رکھی ہیں۔ تاہم پاکستان نے انہیں ’معمول‘ کی مشقیں قرار دیا ہے۔

اُڑی میں فوجی بیس پر حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین کسی مسلح تنازعے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ اڑی حملے میں کم از کم اٹھارہ بھارتی فوجی مارے گئے تھے اور نئی دہلی نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اب اسے اس حملے کا جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے ان بھارتی الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ابھی تفتیش مکمل ہی نہیں ہوئی تو بھارت نے کیسے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کیا ہے؟

جمعرات کو پاکستان نے لاہور اور اسلام آباد کے مابین موٹروے کو بند کرتے ہوئے معمول کی ٹریفک کو ایک دوسرے راستے کی طرف موڑ دیا گیا جبکہ اب وہاں دو روزہ مشقیں جاری ہیں۔ ان مشقوں کے دوران پاکستانی فضائیہ کے جنگی جہاز ہنگامی حالات میں موٹروے پر اترنے اور وہاں سے ہی پروازیں بھریں گے۔

اس بارے میں پاکستانی فضائیہ کے ایک ترجمان جاوید محمد علی کا کہنا تھا، ’’جنگی طیارے موٹروے پر اترے ہیں لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان مشقوں کا مقصد یہ ہے کہ رن وے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں کیا کیا جا سکتا ہے۔‘‘ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ مشقیں ’معمول‘ کی مشقیں ہیں اور بھارت کے جواب میں نہیں ہیں۔

’فوج ہائی الرٹ‘

ایک دوسرے پاکستان اہلکار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستانی فوج ہائی الرٹ ہے تاکہ اگر بھارت اڑی حملے کے جواب میں کوئی حملہ کرے تو اس کا جواب دیا جا سکے۔ تاہم ابھی تک بھارتی فوج کا رسپانس یا رد عمل محدود ہی ہے۔ دوسری جانب بھارتی فوج نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہوں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب دو عسکریت پسندوں کی جانب سے کشمیر میں داخل ہونے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

بھارت کے مقامی میڈیا کے مطابق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کئی جگہوں پر بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیار اگلے مورچوں پر پہنچانا شروع کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ ان کی فوج کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔