1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے ساتھ کشیدگی، پاکستانی فوج کی سرحد کے قریب مشقیں

اسلام آباد اور نئی دہلی کے مابین حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں پاکستانی فوج نے آج بدھ سولہ نومبر سے بھارت کے ساتھ سرحد سے کچھ دور صوبہ پنجاب کے ضلع بہاول پور میں خیرپور تامے والی کے مقام پر اپنی مشقیں شروع کر دیں۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق  دونوں ہمسایہ لیکن حریف ایٹمی طاقتوں کے مابین کشیدگی اور کشمیر کے متنازعہ لیکن منقسم علاقے میں کنٹرول لائن پر گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہلاکت خیز عسکری جھڑپوں کے تناظر میں پاکستانی فوج نے مشرقی ضلع بہاول پور میں جس مقام پر آج سے جنگی مشقیں شروع کی ہیں، وہ بھارت کے ساتھ قومی سرحد سے قریب 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق ان فوجی مشقوں کے معائنے کے لیے ملکی وزیر اعظم نواز شریف بھی آج خیرپور تامے والی گئے، جہاں وہ مہمان خصوصی تھے۔ ان فوجی مشقوں میں پاکستانی مسلح افواج کی طرف سے جنگی طیاروں، ٹینکوں اور توپ خانے کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

ان فوجی مشقوں کے آغاز کی تقریب میں نہ صرف نواز شریف شامل ہوئے بلکہ اس وقت وہاں ملکی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے علاوہ پاکستانی فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان بھی موجود تھے۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ پاکستانی افواج کی طرف سے ان دو روزہ جنگی مشقوں کا آغاز ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے، جب ابھی صرف دو دن پہلے ہی کشمیر کے متنازعہ علاقے میں کنٹرول لائن کے قریب بھارتی دستوں کی گولہ باری کے نتیجے میں سات پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

Pakistan Beerdigung nach Angriff (picture-alliance/dpa/A. Mughal)

کنٹرول لائن پر چند روز قبل بھارتی گولہ باری میں ہلاک ہو جانے والے سات پاکستانی فوجیوں میں سے ایک کی تدفین کے موقع پر لی گئی ایک تصویر

New York UN Gipfel Pakistan Premierminister Nawaz Sharif (Reuters/C. Allegri)

دو روزہ فوجی مشقوں کے آغاز کی تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعظم نواز شریف تھے

اس سے دو ماہ قبل ستمبر میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اُڑی کے مقام پر ایک بڑے حملے کی صورت میں عسکریت پسندوں نے ایک بھارتی ملٹری بیس پر موجود انیس فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد پاک بھارت تعلقات میں مزید کشیدگی آ گئی تھی۔

بھارت کا الزام ہے کہ یہ ہلاکت خیز حملہ ایک ایسے جہادی گروہ کے عسکریت پسندوں نے کیا تھا، جو مبینہ طور پر پاکستانی علاقے سے ایسی کارروائیاں کرتا ہے۔ ان بھارتی الزامات کی پاکستان کی طرف سے پرزور تردید کر دی گئی تھی۔

ابھی حال ہی میں کنٹرول لائن پر سات پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسلام آباد حکومت نے پیر چودہ نومبر کے روز بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرحدی کشیدگی میں اضافے سے اجتناب کیا جائے کیونکہ ایٹمی ہتھیاروں کی مالک طاقتوں کے طور پر دونوں حریف ہمسایہ ریاستوں کے مابین کوئی بھی مسلح تنازعہ ’ناقابل بیان نتائج‘ کی وجہ بن سکتا ہے۔

DW.COM