1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعے پر چین سخت تر موقف کی جانب گامزن

چین بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعے کے حوالے سے روز بروز سخت موقف اختیار کر رہا ہے اور امکاناﹰ آئندہ ماہ ہونے والی بِرکس کانفرنس میں چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مابین ملاقات بے سود ثابت ہو سکتی ہے۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کی کوشش ہو گی کہ ستمبر کے اوائل میں چینی شہر ژیامن میں ہونے والی برِکس کانفرنس سے قبل بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعے کو حل کر لیا جائے۔

 برکس گروپ میں بھارت اور چین کے علاوہ برازیل، روس اور جنوبی افریقہ بھی شامل ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق چین یہ بھی چاہے گا کہ اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ ترقی پذیر ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون جاری ہے۔

تاہم مبصرین کے مطابق یہ اتنا آسان نہیں ہو گا۔ ابھی بدھ  ہی کے روز چین نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت چین کی سرزمین پر فوجی مداخلت کے لیے جھوٹے بہانے تراش رہا ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے کہا تھا ،’’ چین اپنے جائز حقوق اور مفادات کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘‘

کوہ ہمالیہ میں واقع ڈوکلام کے مقام پر چین، بھارت اور بھوٹان کی سرحدیں ملتی ہیں۔ اس علاقے کے ایک حصے پر تینوں ملک اپنا حق جتاتے ہیں۔ اس ملکیتی تنازعے کی وجہ سے دونوں بڑے ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔ اس سرحدی مقام کے قریب چین ایک سڑک تعمیر کر رہا ہے اور بھارت اس کی مخالفت کرتا ہے۔

China Präsident Xi Jinping, 90. Jahrestag Volksbefreiungsarmee (Reuters/D. Sagolj)

امکاناﹰ آئندہ ماہ ہونے والی بِرکس کانفرنس میں چینی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کے مابین ملاقات بے سود ثابت ہو سکتی ہے

چین کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا،’’بھارت سمجھتا ہے کہ چین اور بھارت کی سرحدوں پر امن اور سکون دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کی نمو کے لیے شرطِ اوّلین ہیں۔‘‘

تنازعے کے حل کے لیے دونوں ممالک کے مابین پس پردہ بات چیت ہو رہی ہے تاہم اب تک اس سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ گزشتہ ہفتے چین کی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل وُوچیان نے کہا تھا کہ اُن کی پیپلز لبریشن آرمی اپنے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا بخوبی جانتی ہے۔ ترجمان نے بھارت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سطح مرتفع ڈوکلام پر کسی عسکری مہم جوئی کی کوشش نہ کرے وگرنہ صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔

چینی وزارت دفاع کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ نوے برسوں کی تاریخ میں پیپلز لبریشن آرمی نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور ملکی اتحاد کو مسلسل مضبوط کرنے میں مصروف رہی ہے۔ خیال رہے کہ چین اسی علاقے سے ایک سڑک کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے جو پہاڑی علاقے یادونگ سے تبت جائے گی۔

DW.COM