1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوج بلا لی گئی

نئی دہلی کے زیر انتظام جموں کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں آج بدھ کو بھارتی فوج کی طرف سے حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے باقاعدہ مارچ کیا گیا اور ساتھ میں مختلف قصبوں میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا۔

default

کشمیر میں بھارتی فوج ’ریاستی حکومت کی درخواست‘ پر بھیجی گئی

اس کا پس منظر اس منقسم ریاست میں حالیہ مظاہروں کے دوران ہونے والی وہ ہلاکتیں ہیں جن میں کل منگل کے روز چار کا اضافہ ہو گیا تھا۔ سری نگر میں حکام نے بتایا کہ فوج کو ریاستی حکومت کی درخواست پر امن عامہ کو یقینی بنانے کے لئے بلایا گیا ہے اور مسلح دستے کسی بھی طرح کی کارروائی کے لئے تیار ہیں۔

اس حوالے سے بھارت کے جونیئر وفاقی وزیردفاع راجو نے خبر ایجنسی PTI کو بتایا کہ فوج صرف اسی وقت کاروائی کرتی ہے، جب حالات قابو سے باہر ہو جائیں۔ نئی دہلی میں ایک کانفرنس کے موقع پر راجو نے کہا کہ جموں کشمیر میں ملکی فوج تب تک تعینات رہے گی، جب تک اس کی ضرورت ہوگی۔ تاہم حکومت یہ چاہے گی کہ یہ عرصہ ممکنہ حد تک کم سے کم رہے۔

Thousands of people protesting against killings as a body is exhumed near Srinagar on Friday

کشمیر سرکاری دستوں کے ہاتھوں شہری ہلاکتوں کے خلاف ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء

گزشتہ ایک ماہ کے دوران بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شہری ہلاکتوں کے خلاف مظاہروں کے دوران سکیورٹی دستوں کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں کم ازکم 12 عام شہری ہلاک ہو چکےہیں۔ ان ہلاکتوں میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری نیم فوجی سینٹرل ریزرو پولیس فورس CRPFکے اہلکاروں پر ڈالی جاتی ہے۔

انہی تازہ ہلاکتوں کے باعث مسلم اکثریتی آبادی والی وادیء کشمیر میں گزشتہ چند ہفتوں سےکشیدگی کی ایک ایسی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے، جس دوران سکیورٹی دستوں کو بار بار مسلح کارروائی کرنے کے علاوہ متعدد شہروں میں کرفیو بھی نافذ کرنا پڑ گیا۔ اسی وجہ سے کشمیر کے متعدد قصبوں میں آج بدھ کے روز بھی کرفیو نافذ ہے۔

Srinagar, Sicherheitsvorkehrungen vor den Wahllokalen

سکیورٹی دستوں کو بار بار مسلح کارروائی کرنے کے علاوہ متعدد شہروں میں کرفیو بھی نافذ کرنا پڑ ا

دریں اثنا بھارتی سرحدی حفاظتی فورس BSF کے انسپکٹر جنرل نے بدھ کے روز بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اکھنُور سیکٹر میں سرحد پار سے پاکستانی رینجرز کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں بی ایس ایف کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کی طرف سے سرحد پار سے پاکستانی رینجرز پر فائرنگ کے اس الزام کے جواب میں آج اسلام آباد میں ان دعووں کی باقاعدہ تردید بھی کر دی گئی۔

پاکستان رینجرز کے ایک ترجمان نے اسلام آباد میں کہا کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے شمال کی طرف سے سیالکوٹ کے نواح میں ایک گاؤں کے قریب بھارتی سرحدی دستوں نے پاکستانی علاقے میں خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور مارٹر بموں کا استعمال کیا۔ ترجمان کے بقول اس فائرنگ کے نتیجے میں ایک پاکستانی سپاہی اور کئی مقامی باشندے زخمی ہو گئے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM