بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں تین علیحدگی پسند ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 05.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں تین علیحدگی پسند ہلاک

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس نے تین باغیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ تینوں ممکنہ طور پر رواں برس ہندو زائرین پر حملے میں ملوث تھے۔

منگل کے روز جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہلاک شدگان میں دو پاکستانی تھے جب کہ ایک مقامی نوجوان تھا۔ ریاستی پولیس کے سربراہ ایس پی وید نے بتایا کہ ان تینوں کا تعلق پاکستانی عسکریت پسند گروپ لشکر طیبہ سے تھا۔

کشمیر:پانچ مشتبہ علیحدگی پسندوں سمیت ایک بھارتی کمانڈو ہلاک

کشمیر میں مولانا مسعود اظہر کا ’بھتیجا‘ ہلاک، بھارت کا دعویٰ

’کشمیری ماضی کی غلطیوں کا نتیجہ بھگت رہے ہیں‘

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کا کہنا ہے کہ پیر کو ان مسلح باغیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ اس وقت شروع ہوئی، جب انہوں نے گشت پر مامور ایک فوجی گاڑی پر گھات لگا کر فائرنگ کی۔ یہ واقعہ جموں کو سری نگر سے ملانے والی سڑک پر قاضی گند کے علاقے میں پیش آیا۔

ویڈیو دیکھیے 03:11

خواتین کے بال کاٹنے کے واقعات، خوف وہراس کا سبب

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو کر ایک گھر میں داخل ہو گئے، جس کا محاصرہ کر لیا گیا۔ فائرنگ کے اس واقعے کے بعد مقامی دیہاتیوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان بھی جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں میں ایک عام شہری گولی لگنے سے زخمی ہو گیا، جسے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں اس کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ جنگجو لشکرطیبہ سے تعلق رکھتے تھے اور ممکنہ طور پر انہی نے جولائی کی دس تاریخ کو ہندو زائرین کی ایک بس کو نشانہ بنایا گیا۔ اُس واقعے میں آٹھ افراد ہلاک جب کہ دیگر 19 زخمی ہو گئے تھے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی کی تحریک ایک طویل عرصے سے چل رہی ہے، جب کہ اسی کی دہائی سے اس میں مسلح رنگ بھی شامل ہے۔ جنوبی ایشیا دہشت گردی پورٹل کے مطابق اس دوران ب تک 44 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

نئی دہلی حکومت کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی مدد کا الزام پاکستان پر عائد کرتی ہے، جب کہ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے، تاہم ان کارروائیوں کو آزادی کی جدوجہد قرار دیتا ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic