1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے خلاف سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے: گیلانی

پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ وہ بھارت کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ دوسری جانب انہوں نے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے امکان کو مسترد کر دیا۔

default

وزیراعظم گیلانی نے تصدیق کی کہ امریکی صدر باراک اوباما سے ان کی اتوار کو ہوئی ملاقات میں بھارت میں دہشت گردی میں پاکستانی تنظیمیوں کے کردار کے حوالے سے بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے امریکی صدر کو لشکر طیبہ کے حوالے سے تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

Bildgalerie Jahresrückblick 2008 November Indien

بھارت ممبئی پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری پاکستانی عسکریت پسند تنظمیوں پر عائد کرتا ہے

پاکستانی وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ وہ بھارت یا کسی بھی ملک کے خلاف اپنے ملک کی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے اور دہشت گرد تنظیموں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے دیگر ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں۔

وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی انتہاپسند تنظمیوں کو کالعدم قرار دے کر ان کے اثاثے منجمد کر چکا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ وہ لشکر طیبہ کے خلاف مزید کارروائی کے لئے بھارت کی جانب سے مزید ثبوت چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری کالعدم پاکستانی عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ پر عائد کرتا ہے۔ گیلانی کے بقول: ’’اگر ہمارے پاس مؤثر ثبوت ہوں گے تو ان افراد کو یقینی طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘‘

قبل ازیں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک امریکی ٹی وی چینل سے بات چیت میں کہا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج سوات کے بعد قبائلی علاقوں کا رخ کر چکی ہے اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوجی آپریشن کو کامیاب قرار دیا۔

پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم بین الاقوامی جوہری سلامتی کانفرنس میں شرکت کے لئے واشنگٹن میں موجود ہیں تاہم ان کی ملاقات کا امکان نہیں۔

Osama bin Laden

گیلانی نے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کی اطلاعات کو مسترد کر دیا

دریں اثناء بھارتی سیکریٹری خارجہ نروپما راؤ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم من موہن سنگھ نے امریکی صدر اوباما سے ملاقات میں مطالبہ کیا کہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ لشکر طیبہ اور دیگر عسکری تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے جو بھارت میں ہونے والے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

وزیراعظم گیلانی کے وفد میں شامل پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تنازعات کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔ ان کے بقول : ’’ہمیں ممبئی حملوں سے آگے بھی کچھ دیکھنا چاہئے، ممبئی حملے افسوسناک تھے، قابل مذمت تھے مگر بھارت دہشت گردی سے ویسے ہی متاثر ہے جیسے خود پاکستان، دہشت گردی دونوں ممالک کے لئے ایک مشترکہ چیلینج ہے۔‘‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف