1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت کے ایک گاؤں کا نام’ٹرمپ‘ رکھا جائے گا

ایک غیرسرکاری بھارتی تنظیم نے ملک کے ایک گاؤں کا نام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام  امریکا اور بھارت کے مابین  تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اُٹھایا جائے گا۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق ’سلابھ انٹرنیشنل‘ نامی اس غیر سرکاری تنظیم کے بانی بندیشور پاتھک نے بھارت کے ایک گاؤں کو ڈونلد ٹرمپ کا نام دینے کا اعلان واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران کیا۔ اس موقع پر  پاتھک  نے کہا،’’ ہم بھارت کی شمالی ریاست ہریانہ کے اس گاؤں میں کام کر رہے ہیں۔  گاؤں کے تمام گھروں میں ٹوائلٹ ہماری تنظیم کی جانب سے بنوائے گئے ہیں۔‘‘

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹ کے مطابق سلابھ انٹرنیشنل‘ نامی غیر سرکاری تنظیم کے فیس بک پیج پر لکھا  ہے،’’سلابھ انٹرنیشنل کے بانی ڈاکٹر بندیشور پاتھک سستے ٹوائلٹ عوام تک پہنچنانا چاہتے ہیں تاکہ ہاتھ کے ذریعے انسانی فضلے کو اٹھائے جانے کی روایت کو مکمل طورپرختم کیا جا سکے۔‘‘ اس تنظیم کے مطابق 25 سے 500 امریکی ڈالر میں ایک ٹوائلٹ بنایا جا سکتا ہے۔ ٹوائلٹ کی قیمت کا انحصار اس کی طرز تعمیر پر ہے۔

یہ بھارت کا پہلا گاؤں نہیں ہے جسے امریکی صدر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ نئی دہلی کے مضافات میں ایک دیہات کا نام  سن 1978 میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے نام پر ’جمی پور‘ رکھا گیا تھا۔ واضح رہے کہ  بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ٹرمپ اس ماہ کے آخر میں واشنگٹن میں ملاقات کریں گے۔

مودی اور ٹرمپ کے مابین ’گرم جوشی‘ سے ٹیلی فون پر گفتگو

’ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی ’بیسٹ فرینڈ‘ ہوں گے‘

 بھارت میں دائیں بازو کے ہندو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مداح ہیں۔ آج چودہ جون کو امریکی صدر 71 برس کے ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر  بھارت کے دارالحکومت میں دائیں بازو کے ہندو ان کی سالگرہ منائیں گے۔ 

DW.COM