1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت کی کچی بستی میں چلتاپھرتا اسکول

تعلیم حاصل کرنے کے لیے اگر انسان کو اپنا گھر بار چھوڑ کر پردیس بھی جانا پڑے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن بھارتی شہر حیدرآباد کی ایک کچی بستی ایسی ہے، جہاں ’تعلیم خود چل کر‘ بچوں کے پاس جاتی یے۔

default

’ان بچوں کے پاس اسکول جانے کے لئے وقت نہیں۔ اس لیے ہم نے سوچا کیوں نہ اسکول کو ہی ان کے پاس لایا جائے۔‘

لوہے اور لکڑی کی چادروں سے بنے ہوئے مکانوں کے بیچ کھڑی نارنجی رنگ کی یہ بس صرف بس ہی نہیں بلکہ ایک چلتا پھرتا اسکول ہے۔ اس بس کے آبادی میں داخل ہوتے ہی، ننگے پاؤں بچوں کی ایک فوج آنکھوں میں چمک لیے بس کے اندر داخل ہو جاتی ہے۔ بستی کے بےروزگار یا مزدوری پیشہ والدین کی اولادوں کو مفت تعلیم دینےکے لیے یہ بس CLAP Foundation نامی غیر سرکاری تنظیم کی کاوشوں کا نتیجا ہے۔

تنظیم کے بانی ٹی ایل ریڈی کا کہنا ہے، ’ان بچوں کے پاس اسکول جانے کے لئے وقت نہیں۔ اس لیے ہم نے سوچا کیوں نہ اسکول کو ہی ان کے پاس لایا جائے۔‘

پچیس برس سےشعبہء تعلیم سے تعلق رکھنے والے ریڈی نے مزید کہا، ’پہلے ہم نے اس بستی میں ایک عارضی خیمے میں اسکول لگایا، جہاں بچوں کو بنیادی تعلیم دی جاتی تھی۔ پھر ہم نے مزید بچوں کو متوجہ کرنے کے لیے اس بس کا آغاز کیا۔‘

Indien, Kinder spielen im Slum

عطیات جمع کرنے اور پہلے چند خیمے قائم کرنے کے بعد اس بس پر کام تقریبا تین سال پہلے یعنی2008 میں شروع ہوا.

عطیات جمع کرنے اور پہلے چند خیمے قائم کرنے کے بعد اس بس پر کام تقریبا تین سال پہلے یعنی2008 میں شروع ہوا۔ بس اندرسے روشن اور صاف ہے اور اس کی دیواروں پر حروف، ہندسوں، پھلوں اور جانوروں کی تصاویر چسپاں ہیں۔ ان رنگارنگ تصاویر کے بیچ بچے ایک دائرے میں اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ کر اپنی گود میں تختیاں اور قلم لیے سبق پڑھتے ہیں۔ کبھی کبھی تو بس اتنی بھر جاتی یے کہ بچوں کو فرش پر بیٹھنا پڑتا ہے۔

اسی اسکول کی دس سالہ طالبہ دیوی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس بس میں پڑھنا اچھا لگتا ہے کیونکہ یہاں ہمیں کوئی ڈانٹتا یا مارتا نہیں۔‘

پڑھنے کے علاوہ وہ اپنے والد کے ساتھ کوڑا جمع کرنے میں مدد کرتی ہے اور بڑی ہو کر استانی بننا چاہتی ہے۔

عارضی خیموں اور بس اسکولوں کے مقصد کے بارے میں بات کرتے ہوئے ریڈی نے کہا، ’ہم چاہتے ہیں کہ یہ بچے اتنا لکھنا پڑھنا سیکھ جائیں کہ سرکاری اسکولوں میں اپنا اندراج کرا سکیں۔ اب تک،کوئی چالیس بچے کافی مشکلات کے بعد ایسا کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔‘

تاہم ریڈی اور ان کے رفقاء کا شکوہ ہے کہ اکثر بچوں کے خاندانوں کا غیر معاون رویہ اور ُان کے کام کا شیڈول پڑھائی میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔

رپورٹ: عائشہ حسن

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM