1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کی نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کی امید روشن

چین کی طرف سے مخالفت کے باوجود نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کی بھارت کی امیدیں بڑھ گئی ہیں کیوں کہ وازنیر نظام میں اس کی رکنیت اب تقریباً طے ہو چکی ہے۔

یہ خبر روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے بھارت کے خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد یہاں نامہ نگاروں کو دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سب کچھ حسب توقع رہا تو بھارت آج جمعرات کو وازینر نظام میں شامل ہوسکتا ہے۔ بھارت اس نظام میں شامل ہونے کے کافی قریب ہے۔

اکتالیس رکنی وازنیر نظام کا تیسواں سالانہ اجلاس ویانا میں جاری ہے ، جہاں جرمنی، روس، فرانس اور امریکا وازنیر نظام میں بھارت کی شمولیت کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ نظام روایتی ہتھیاروں کی تجارت اور ٹیکنالوجی کے دوہرے استعمال کو کنٹرول کرتا ہے۔ نیوکلیئر سپلائر گروپ (این ایس جی ) میں بھارت کی رکنیت کی مخالفت کرنے والا چین وازنیر نظام کا رکن نہیں ہے۔

بھارت نے وازنیر نظام میں شامل ہونے کے لیے کافی محنت کی ہے۔ اس نے اس سال کے اوائل میں وازینر نظام کے تحت لازمی ایس سی او ایم ای ٹی(اسپیشل کیمیکلز آرگنزم، میٹریلس، ایکوپمنٹ اور ٹیکنالوجی) سے متعلق اشیاء کی منظوری بھی دے دی ہے اور اسے امید ہے کہ یہ اکتالیس رکنی گروپ اس کی شمولیت کا مثبت فیصلہ کرے گا۔ بھارت کے لئے اس نظام میں شمولیت کو کافی اہم اور ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اس میں شامل ہونے سے این ایس جی کی رکنیت کے لئے اس کا دعوی مضبوط ہوجائے گا۔

بھارت میزائل ٹیکنالوجی گروپ کا رکن بن گیا

 وازنیر نظام میں شامل ہونے سے بھارت کو جوہری عدم پھیلاو کے معاہدے(این پی ٹی) پر دستخط کئے بغیر رکن ملکوں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کرنے کا موقع ملے گا۔ بھارت آسٹریلوی گروپ میں بھی شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان دونوں گروپوں میں شامل ہونے سے بھارت کو این ایس جی میں رکنیت دلانے کے لئے رکن ملکوں کے ذریعے چین پر دباو ڈالا جاسکتا ہے۔ چین این ایس جی میں بھارت کی شمولیت میں کا مخالف ہے۔ بھارت کے لئے این ایس جی کی رکنیت کافی اہم ہے کیوں کہ اس سے جوہری ٹیکنالوجی اور یورینیم حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔

این ایس جی کی رکنیت: بھارت کی چین کی مدد حاصل کرنے کی کوشش

روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں کی طرف سے این ایس جی کی رکنیت کے لئے درخواستیں آئی ہیں لیکن بھارت اور پاکستان کی این ایس جی رکنیت کے درخواستوں کا ایک دوسرے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے اس معاملے کو سیاسی رنگ دیے جانے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے ملکوں کو بھارت کی رکنیت کے لئے اور زیادہ مثبت کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ این ایس جی کی رکنیت کی دعویداری کے لئے پاکستان کی درخواست پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہے اور اسے بھارت کی دعویداری کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ این ایس جی کے لئے بھارت کا ریکارڈ خامیوں سے پاک ہے جب کہ پاکستان کے متعلق ایسا نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے میڈیا کے سوالات پر مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی درخواست کے سلسلے میں اتفاق رائے ہونے کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔

نیوکلیئر سپلائرز گروپ: پاکستان نے رکنیت کی درخواست دے دی

روسی سفارت کار نے یہ تسلیم کیا کہ روس پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلام آباد کے ساتھ تعلقات میں روس کا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں ہے۔ ریابکوف نے کہا، ’’میں آپ کو یقین دلانا چاہوں گا کہ دنیا میں کسی بھی ملک کے ساتھ روس کے تعلقات بھارت کے ساتھ رشتوں کی قیمت پر نہیں قائم کئے جائیں گے۔‘‘

ریابکوف کا کہنا تھا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ این ایس جی اپنی بنیادوں سے جڑا رہے۔ کسی بھی ملک کی رکنیت کی درخواست کا اس کے میرٹ کی بنیاد پر غور کیا جائے اور بھارت کے معاملے میں بھی ایسا ہی کیا جانا چاہئے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب روس این ایس جی کی رکنیت کے لئے بھارت کی حمایت کر رہا ہے۔ اس سے پہلے روسی صدر ولادیمیر پوٹن بھارت کو یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ روس اس کی رکنیت کے حوالے سے چین سے بات کرے گا۔

اس سال کے اوئل میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا تھا کہ بھارت نے چین کو آمادہ کرنے کے لئے روس سے رابطہ کیا ہے کیوں کہ چین بھارت کو میرٹ کی بنیاد پر رکنیت دینے مخالفت کر رہا ہے۔ حالانکہ روس کا ماننا ہے کہ جب تک تمام ممالک اس سلسلے میں کوشش نہیں کرتے چین اس وقت تک ماننے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔

DW.COM