1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

'بھارت کی لاکھو‌ں لڑکیاں جسم فروشی پر مجبور‘

بھارت کی ایک 29 سالہ خاتون جسے نوجوانی میں جسم فروشی پر مجبور کیا گیا، نے بھارت کے وزیر اعظم کو خط تحریر کیا ہے اور اس جیسی ہزاروں دیگر عورتوں کو قحبہ خانوں سے آزادی دلانے کی درخواست کی ہے۔

تاوی نامی خاتون نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ جب وہ صرف سترہ برس کی تھی تو اسے دھوکہ دے کر ممبئی کے ایک قحبہ خانے یا جسم فروشی کے ایک اڈے میں فروخت کر دیا گیا تھا۔ چھ برس بعد پولیس نے تاوی کو غلامی کی اس زندگی سے رہائی دلوائی۔

تاوی کا یہ خط بھارت کے کئی اخبارات میں شہ سرخی بنا۔ جنوبی ایشیا کے اس ملک میں غلامی کی زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ تاوی نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا،’’میری مدد کی گئی، مجھے بچا لیا گیا، وہاں میری طرح کی بہت زیادہ لڑکیاں تھیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ وہیں تھیں وہ نہ بھاگیں نہ انہیں بچایا گیا۔‘‘

 تاوی کا کہنا ہے کہ کہ یہ لڑکیاں بے روزگار ہیں، ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ لوگ انہیں ممبئی میں کام دلانے کا جھانسا دیتے ہیں اور پھر جسم فروشوں کو یہ لڑکیاں فروخت کر دیتے ہیں۔ تاوی کا کہنا ہے کہ اس نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط میں لکھا ہے کہ ان لڑکیوں کو رہا کرا کر روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

Kalyani Mondol Sexarbeiterin aus Kalkutta (DW/T. Meyer)

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 46 ملین افراد غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 46 ملین افراد غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یا تو ان سے جسم فروشی کے اڈوں میں کام کرایا جاتا ہے یا فیکٹریوں میں ان سے شدید مشقت والے کام کرائے جاتے ہیں یا پھر انہیں قرض دے کر عمر بھر ان سے محنت مزدوری کرائی جاتی ہے۔ ان افراد میں سے چالیس فیصد افراد بھارت میں ہیں۔ اکثر کا تعلق انتہائی غریب گھرانوں سے ہوتا ہے۔ یہ اینٹوں کے بھٹوں میں کام کرتے ہیں، لوگوں کے گھروں میں ملازم کے طور پر کام کرتے ہیں، کچھ سے کپڑے کی فیکڑیوں میں کئی گھنٹے کام کرایا جاتا ہے اور عورتوں کی ایک بڑی تعداد کو جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔

Indien Prostitution Frau Prostituierte Anonym (picture-alliance/dpa)

تاوی کو سن2011 میں پولیس کے ایک چھاپے میں اسے بچا لیا گیا تھا

ایک سروے کے مطابق بھارت کے لگ بھگ 20 لاکھ شہری جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہیں اور جن میں سے زیادہ تر لڑکیاں ہیں جسم فروشی مجبور ہیں۔ مودی کے نام خط میں تاوی نے لکھا ہے کہ کلکتہ میں سن 2005 میں اس کے بوائے فرینڈ نے شادی کا اور اسے ممبئی لے جانے کا وعدہ کیا۔ وہاں اس کے بوائے فرینڈ نے اسے ساٹھ ہزار روپے میں فروخت کر دیا۔ چھ سال تک وہ جسم فروشی کے مختلف اڈوں میں کام کرتی رہی۔ بالآخر سن2011 میں پولیس کے ایک چھاپے میں اسے بچا لیا گیا۔

تاوی اب ممبئی کی ایک کپڑوں کی فیکٹری میں کام کرتی ہے۔ تاوی نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا،’’میں انسانی اسمگلنگ کا شکار بنی تھی، میری زندگی جہنم سے کم نہ تھی۔ مجھے مارا پیٹا گیا اور مجھ سے جانوروں سے بھی بدتر رویہ اپنایا گیا۔ آپ مجھ جیسی اور عورتوں کو تحفظ فراہم کریں۔‘‘ ایک سرکاری افسر جس نے تاوی کا خط مودی تک پہنچایا ہے، اس کا کہنا ہے کہ مودی نے خط کا جواب دینے کا وعدہ کیا ہے۔

DW.COM