1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کی طرف سے سرحد پار فائرنگ، تین سویلین ہلاک

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز کی طرف سے سرحد پار پاکستانی علاقے میں فائرنگ کے نتیجے میں تین عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ کشمیرکے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے ہی تناؤ موجود ہے۔

یہ واقعہ نکیال سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر پیش آیا جو بھارتی زیر انتظام کشمیر کو پاکستانی صوبہ پنجاب سے الگ کرتی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یہ بات پاکستانی حکام کے حوالے سے بتائی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار عدنان خورشید نے اے ایف پی کو بتایا، ’’نکیال سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر بھارت فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک لڑکی سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پانچ تین افراد زخمی ہوئے۔‘‘ اس اہلکار کے مطابق زخمی ہونے والے افراد کو کوٹلی کے ایک ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

نکیال کے علاقے کی مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار ذیشان نثار نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک سات سالہ بچی بھی شامل ہے۔

تشدد کا یہ تازہ واقعہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب بھارت کی طرف سے گزشتہ روز یعنی جمعرات 27 اکتوبر کو اعلان کیا گیا تھا کہ وہ ایک پاکستانی ویزہ افسر کو جاسوسی کے الزام میں ملک سے بے دخل کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں اسلام آباد حکومت نے بھی ایک بھارتی سفارتی افسر کو ملک سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Indien Kashmir Konflikt Eskalation Polizei (Reuters/D.Ismail)

بھارتی فورسز کی کارروائیوں میں 80 سے زائد کشمیری ہلاک ہو چکے ہیں

حالیہ مہینوں کے دوران جنوبی ایشیا کی ان دونوں ہمسایہ اور جوہری ریاستوں کے درمیان تعلقات کافی کشیدہ ہیں۔ رواں برس ستمبر میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کی طرف سے بھارتی فورسز کے کے ایک اڈے پر حملے کے نتیجے میں 19 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں رواں برس آٹھ جولائی کو ایک علیحدگی پسند تنظیم کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے وہاں حکومت مخالف مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی فورسز کی کارروائیوں میں 80 سے زائد کشمیری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے پیلٹ گنوں کے استعمال کے باعث سینکڑوں کشمیری نابینا یا معذور ہو چکے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔