1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کی اربوں ڈالر کی نيوکلير منڈی

بھارت ميں آج ايک پارليمانی کميشن نے اس قانونی بل ميں تبديليوں کی سفارش کی ہے، جس کا مقصد ملک کی، نيوکليئر توانائی کی 150 بلين امريکی ڈالر کی ماليت کی منڈی کے دروازے ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے لئے کھولنا ہيں۔

default

بھارتی وزير اعظم من موہن سنگھ

پارليمانی کميشن نے اس قانونی بل ميں تبديليوں کی سفارش ميں، حادثات کی صورت ميں معاوضے کی رقم ميں تين گنا اضافہ اور معاوضے کا دائرہ نجی سپلائرز تک وسيع کرنا بھی شامل ہے۔ حکومت نے يہ کميشن، قانونی مسودے کی سياسی مخالفت کے بعد قائم کيا تھا اور اب اس کميشن نے اپنی سفارشات پارليمنٹ کو پيش کردی ہيں۔ اس بل کی منظوری کے بعد امريکی کمپنی جنرل اليکٹرک اور جاپانی فرم توشيبا کی شاخ ويسٹنگ ہاؤس اليکٹرک جيسی فرمز بھارت کی نيوکليئر پاور کی منڈی ميں داخل ہوسکتی ہيں۔کميشن نے سفارش کی ہے کہ کہ نيوکلیئر پاور پلانٹس کو چلانے والے رياستی ادارے پر معاوضے کی ذمے داری کی حد 320 ملين ڈالر مقرر کی جائے۔

Frankreich Indien Manmohan Singh Atomenergie

فرانسيسی وزير خارجہ کوشنر اور بھارتی ايٹمی انرجی کميشن کے سربراہ کوکادکار پيرس منں ايٹمی سمجھوتے پر دستخط کے بعد

اگر کميشن کی ان سفارشات کو بھارتی پارليمنٹ نے منظور کرليا تو اس سے پرائيوٹ فرمز کو زيادہ اخراجات برداشت کرنا پڑيں گے کيونکہ انہيں انشورنس کا زيادہ پريميئم ادا کرنا ہوگا۔ ليکن اس طرح پاليسی واضح ہوجائے گی اور پراجيکٹس تيز رفتاری سے مکمل کئے جاسکيں گے۔

اس قانون کے اصل مسودے ميں ايٹمی بجلی پيدا کرنے کے ری ايکٹر کو چلانے والے رياستی ادارے کی طرف سے معاوضوں کی ادائيگی کی حد تقريباً 110ملين ڈالر مقرر کی گئی تھی اور پرائيويٹ سپلائرز اور ٹھيکے داروں پر معاوضوں کی ادائيگی کی کوئی ذمے داری نہيں ڈالی گئی تھی۔ کميشن نے اپنی رپورٹ ميں لکھا ہے: " نقصانات کی صورت ميں معاوضوں کی کافی رقم اور اس کی جلد ادائيگی کے بارے ميں بھارت کے نظريات کو يقينی بنانے کی کوشش ہے اور اس کا مقصد يہ بھی ہے کہ ملک کی نيوکليئر صنعت پر ضرورت سے زيادہ بوجھ نہ ڈالا جائے تاکہ وہ ترقی کرسکے۔"

Abkommen zwischen Indien und den USA erlaubt Handel mit Kernmaterial

امريکی بھارتی نيوکلير معاہدے کے تحت بھارت کو جوہری شعبے ميں تجارت کی سہولت ملنے پربھارت ميں خوشياں منائی جارہی ہيں

يہ قانون ان نجی کمپنيوں کے لئے خاص طور پر اہم ہے، جن پر عائد ہونے والی ذمے داريوں کو فرانس اور روس کے برعکس ان کی حکومتوں کی سرپرستی حاصل نہيں ہے۔ صرف ايک ہی ايٹمی حادثے کے نتيجے ميں معاوضوں کے کليم کسی کمپنی کو ديواليہ کردينے کے لئے کافی ہوسکتے ہيں۔

اس قانونی مسودے کو بھارتی وزير اعظم من موہن سنگھ کی ذاتی حمايت حاصل ہے ۔ سن2008 ميں ان کے اور سابق امريکی صدر جارج بش کے درميان ہونے والے نيو کليئر انرجی کے معاہدے سے عالمی ايٹمی منڈی ميں بھارت کے داخلے کا راستہ کھل گيا تھا۔

بھارتی حکومت نيوکليئر قانون کو جلد منظور کرانے کی خواہاں ہے تاکہ نومبر ميں صدر اوباما کے بھارت کے دورے سے قبل ہی، امريکہ سميت عالمی فرمز کی بھارتی منڈی ميں داخلے کی راہ ہموار ہو جائے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس