1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت کی آبادی: ہندو پہلی بار اسّی فیصد سے کم، مسلمان زیادہ

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک بھارت میں پہلی بار مجموعی آبادی میں ہندوؤں کا تناسب اسّی فیصد سے کم ہو گیا ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد قریب ایک فیصد اضافے کے ساتھ اس وقت چودہ فیصد سے زائد ہے۔

نئی دہلی سے بدھ چھبیس اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق 1947ء میں بھارت کی آزادی سے لے کر اب تک ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ملک کی مجموعی آبادی میں ہندوؤں کا تناسب 80 فیصد سے کم ہو گیا ہے۔

اس سلسلے میں بھارتی ذرائع ابلاغ میں یہ دعوے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں کہ نئی دہلی میں گزشتہ ملکی حکومت نے قومی سطح پر پچھلی مردم شماری کے نتائج جاری کرنے میں اس لیے دانستہ طور پر تاخیر کر دی تھی کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

روئٹرز کے مطابق گزشتہ برس اقتدار میں آنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے اس بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس جنوبی ایشیائی ملک میں سب سے بڑی اقلیت کے طور پر مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مردم شماری کے نتائج کے مطابق 2011ء میں، جب بھارت کی مجموعی آبادی 1.2 ارب تھی، ہندوؤں کا تناسب کم ہو کر 79.8 فیصد ہو چکا تھا حالانکہ اس سے ایک دہائی قبل یہی شرح 80.5 فیصد بنتی تھی۔

قریب چار سال قبل مکمل کی جانے والی اس مردم شماری کے نتائج کے مطابق 2001 میں بھارت میں مسلم آبادی کا تناسب 13.4 فیصد تھا، جو 2011ء تک 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 14.2 فیصد ہو چکا تھا۔

اس کے برعکس دیگر بڑے مذہبی گروپوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی باشندوں میں سے مسیحیوں کی آبادی میں تو کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہ آئی جبکہ سکھوں کی آبادی ایک عشرہ پہلے کے مقابلے میں دراصل کم ہوئی ہے۔ 2011ء میں اس سے دس سال قبل کی طرح بھارتی مسیحیوں کی آبادی 2.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ اسی عرصے کے دوران سکھوں کی مجموعی آبادی 1.9 فیصد سے کم ہو کر 1.7 فیصد رہ گئی۔

بھارت کے ایک ہندو پنڈت سکشی مہاراج نے، جو بعد میں سیاست میں آ گئے تھے، اس سال کے اوائل میں یہ کہہ کر ایک بڑا ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا کہ ہر ہندو خاتون کو چار بچوں کو جنم دینا چاہیے تاکہ ہندو مت کی بقاء کو یقینی بنایا جا سکے۔

روئٹرز نے تاریخی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ برصغیر سے 1947ء میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد، جب پاکستان اور بھارت کی خود مختار ہمسایہ ریاستیں وجود میں آئی تھیں، بھارت میں کرائی جانے والی پہلی پہلی مردم شماری میں ہندو آبادی کا تناسب 84.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

Bildergalerie Eid al-Adha in Indien

2001 میں بھارت میں مسلم آبادی کا تناسب 13.4 فیصد تھا، جو 2011ء تک 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 14.2 فیصد ہو چکا تھا

بھارت میں گزشتہ مردم شماری کے نتائج کے مطابق اگرچہ ملک کے تمام مذہبی گروپوں کی آبادی میں اضافے کی شرح ماضی کے مقابلے میں کچھ کم ہوئی ہے تاہم اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ابھی بھی یہ بات تقریباﹰ یقینی ہے کہ جنوبی ایشیا کا یہ ملک 2022ء تک دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے طور پر اپنے ہمسائے چین کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

اس پس منظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ گزشتہ مردم شماری اور اس سے پہلے کی مردم شماری کے درمیانی عرصے میں بھارت کی آبادی میں قریب 20 فیصد کا اضافہ ہوا، جو ملک میں زمینی، زرعی، آبی اور اشیائے خوراک کے وسائل کی دستیابی کی صورت حال پر دباؤ میں اضافے کا سبب بنا اور اس دوران بھارتی افرادی قوت کے بے روزگار، کم روزگار والے اور کم ہنر مند حصے کے تناسب میں بھی واضح اضافہ دیکھا گیا۔