1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کو گیمز کا میزبان بنانا ہی غلط تھا، آسٹریلوی اولمپک سربراہ

خطرات خدشات، مسائل اور ان کے حل کے لئے جنگی بنیادوں پر کی جانے والی کوششوں کے سائے میں نئی دہلی میں دولت مشترکہ کھیلوں کے سلسلے میں کھلاڑیوں کی آمد بالآخر شروع ہوگئی ہے۔

default

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں تین اکتوبر سے دولت مشترکہ کھیلوں کا آغاز ہورہا ہے۔ ان مقابلوں کے لئے دنیا کے71 ممالک سے سات ہزار کے قریب کھلاڑیوں اور منتظمین نے شرکت کرنی ہے۔ تاہم تعمیراتی کاموں میں تاخیر اور کرپش کی خبریں، سکیورٹی خدشات اور کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن کی طرف سے ایتھلیٹس ویلج کو ناقابل رہائش قرار دیے جانے کے بعد ان کھیلوں کے انعقاد پر ہی ایک سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔

کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن کی طرف سے تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صورتحال اب بالآخر بہتر ہونا شروع ہوگئی ہے۔ فیڈریشن کے صدر مائیکل فینل کے مطابق تاہم ابھی اس سلسلے میں کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

کامن ویلتھ فیڈریشن کے بیان کے اگلے ہی روز اسٹیڈیم کو کارپاکنگ سے ملانے والا ایک زیر تعمیر پل گرنے سے 27 مزدور زخمی ہوگئے۔ یہی نہیں بلکہ بدھ کے روز اسٹیڈیم کے ایک حصے کی آرائشی چھت نیچے آگری تاہم اس سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔ یہ تمام وجوہات کھیلوں میں حصہ لینے والے ممالک کے لئے سوالیہ نشان بن کر سامنے آئے تھے کہ آیا وہ اپنے کھلاڑی شرکت کے لئے بھیجیں یا نہیں؟ ان حالات میں کینیڈا، سکاٹ لینڈ اور نیوزی لینڈ نے اپنے کھلاڑیوں کی نئی دہلی روانگی میں تاخیر کا اعلان کردیا۔

Indien Commonwealth Games Flash-Galerie

جواہر لعل نہرو سٹیڈیم کو پارکنگ ایریا سے ملانے والا پل گرنے سے 27 مزدور زخمی ہوگئے۔

اور پھر مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا میں چپھنے اور دکھائی جانے والی بعض تصاویر نے نئی دہلی کامن ویلتھ گیمز کے منتظمین کے مسائل میں مزید اضافہ کردیا۔ ان تصاویر میں ایتھلیٹس کے رہائشی ویلج میں آوارہ کتوں کی موجودگی، ٹہرا ہوا آلودہ پانی، کام کرنے والے عملے کی لوگوں کی موجودگی میں پیشاب کرتے ہوئے اور مختلف مقامات پر انسانی فضلے کی موجودگی دکھائی گئی۔

تمام تر بے یقینی صورتحال میں آج جمعہ کے روز انگلینڈ کے کھلاڑیوں کا پہلا دستہ نئی دہلی پہنچ گیا ہے تاہم ان کھلاڑیوں کو اتھلیٹس ویلج کی بجائے ایک ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے۔ انگلش ٹیم کی خاتون ترجمان کیرولین سرلے کے مطابق 560 رکنی برطانوی دستے کے رہائشی علاقے میں مسائل ابھی تک موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ تو نہیں کہہ سکتیں کہ یہ مسائل کب تک حل ہونگے مگر وہ ہرلمحہ ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

بھارتی حکومت کی جانب سے اتھلیٹس ویلج کی صفائی اور بجلی، پلمبنگ اور دیگر مسائل کے حل کے لئے ہزاروں کارکنوں کو دن رات کام پر لگایا گیا ہے۔

ادھر آسٹریلوی اولمپک کمیٹی کے سربراہ جان کوٹس نے کہا ہے کہ بھارتی دارالحکومت کو کامن ویلتھ گیمز کے لئے چنا جانا ہی ایک غلطی تھی اور اس سلسلے میں انہوں نے کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن کو ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

دوسری طرف معروف ایتھلیٹس کی جانب سے کھیلوں کے اس ایونٹ میں شرکت سے معذرت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس لسٹ میں تازہ شامل ہونے والے کھلاڑی،سائیکلنگ کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ گیرینٹ تھامس ہیں جن کے ساتھ تین مزید برطانوی سائیکلسٹ نے بھی ان کھیلوں میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈسکس تھرو کے عالمی چیمپئین آسٹریلوی کھلاڑی ڈینی سیموئلز، انگلینڈ کے ٹرپل جمپ عالمی چیمپیئن فلیپس ایڈوو اور جمائیکا کے اتھلیٹ اوسین بولٹ ان اہم کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو نئی دہلی کامن ویلتھ گیمز میں شرکت سے پہلے ہی معذرت کرچکے ہیں۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عدنان اسحاق