1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کو ’پوری طاقت کے ساتھ‘ جواب دیں گے، پاکستان

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے اسی طرح شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی جاری رکھی تو اسے ’پوری طاقت کے ساتھ‘ جواب دیں گے۔

آج پاکستانی وزیر دفاع کا نیوز ایجنسی اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’ ہم اس صورتحال کا ہر سطح پر مقابلہ کریں گے۔ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم اس کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔‘‘ پاکستانی وزیر دفاع نے بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی بھی عیادت کی، جبکہ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں جوابی کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے، ہمیں اسی طرح کی کارروائی کا حق حاصل ہے، ہم پوری طاقت کے ساتھ جواب دیں گے۔‘‘

پاکستانی وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا، ’’اگر بھارت نے بین الاقوامی سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کی اور دوبارہ جارحیت کا مرتکب ہوا، ہم اپنے ملک کا دفاع کریں گے اور 1965ء کی جنگ سے زیادہ نقصان پہنچائیں گے۔‘‘ یاد رہے کہ ستمبر 1965ء میں دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین دو ہفتے تک جنگ جاری رہی تھی اور پاکستان ابھی تک چھ ستمبر کو ’یوم دفاع‘ مناتا ہے۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف آئندہ مہینے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی اس مسئلے کو اٹھائیں گے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت نے گزشتہ دو ماہ میں ستّر سے زائد مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کی ہیں جبکہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے گزشتہ ہفتے اپنی پریس کانفرنسں میں کہا تھا کہ پاکستان نے ستتر سے زیادہ مرتبہ فائر بندی کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو چکا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ماہ کی چوبیس تاریخ کو پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات منسوخ ہونے کے بعد سرحدی کشیدگی میں اضافے سے ستمبر میں ہونیوالی سرحدی حکام کی مجوزہ ملاقات پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔

پاکستان اور بھارتی کی سرحدی فورسز کے مابین حالیہ گولہ باری کے تبادلے میں اب تک کم از کم تیرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کل جمعے کے روز پاکستانی صوبہ پنجاب میں بھارتی فورسز کی بمباری کی وجہ سے نو پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے تھے جبکہ زخمیوں کی تعداد چالیس بتائی گئی تھی۔ دوسری جانب بھارت نے کہا تھا کہ ان کے زیر کنٹرول کشمیر میں پاکستانی فورسز کی بمباری کے نتیجے میں ان کے چار شہری مارے گئے ہیں۔

دونوں ملکوں کے مابین سرحدی کشیدگی کے یہ واقعات ایک ایسے وقت میں رونما ہو رہے ہیں جب ایک ہفتہ پہلے ہی کشمیر کے تنازعے کی وجہ سے اعلیٰ سطحی مذاکرات منسوخ کر دیے گئے تھے۔ مذاکرات کی منسوخی پر نہ صرف امریکا بلکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی افسوس کا اظہار کیا تھا۔