1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کو مطلوب پاکستانی فوجی افسران

بھارت نے پاکستان کے پانچ حاضر فوجی افسران کو انتہائی مطلوب قرار دیا ہے۔ نئی دہلی حکومت چاہتی ہے کہ انہیں دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے ان کے حوالے کیا جائے۔

default

اِن فوجی افسران کے نام پچاس افراد کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں، جن پر بھارت نے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے براہ راست پاکستانی فوج کے حاضر اہلکاروں کو شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

’انتہائی مطلوب افراد‘ کی یہ فہرست بھارت نے رواں برس مارچ میں پاکستان کے حوالے کر دی تھی، تاہم اسے جاری اب کیا گیا ہے۔ اس کے مندرجات کے اجراء کا وقت بھی اہم ہے۔ پاکستان پر دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سربراہ کی اپنی سرزمین پر ہلاکت کے تناظر میں پہلے ہی دباؤ چلا آ رہا ہے۔

امریکی خصوصی فورسز نے رواں ماہ کے آغاز پر پاکستانی علاقے ایبٹ آباد میں ایک آپریشن میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس پر پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں پر یہ الزامات لگائے گئے کہ یا تو وہ نااہل ہیں یا لادن کو پناہ دیے ہوئے تھیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے نئی دہلی حکومت کے ایک سنیئر اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارتی سیکریٹری داخلہ جی کے پلائی نے مارچ میں ایک ملاقات کے دوران یہ فہرست اپنے پاکستانی ہم منصب قمر زمان چودھری کو دی تھی۔

Flash-Galerie Anschläge Mumbai Indien 2008 Ajmal Kasab

ممبئی حملوں کے باعث دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید تلخی آئی

بھارت کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی گئی فہرست میں فوجی میجروں، انڈرورلڈ لیڈر داؤد ابراہیم، القاعدہ، لشکر طیبہ اور جیش محمد کے مشتبہ کارکنوں کے نام بھی شامل ہیں۔

نئی دہلی حکومت طویل عرصے سے پاکستان کو شدت پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام دیتی ہے۔ ان میں 2008ء میں ہونے والے ممبئی حملوں کے ذمے دار بھی شامل ہیں۔ ان حملوں میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے لیے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے معاونت کی تھی۔

پاکستان اور بھارت جوہری طاقت کے حامل ہمسائے ہیں اور 1947ء سے اب تک تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ ان کے درمیان جاری امن عمل ممبئی حملوں کے بعد تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس