1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت کو جنگی طیاروں کی فراہمی کے لیے امریکی کمپنیاں مسترد

بھارت نے جنگی طیارے خریدنے کے لیے امریکی کمپنیوں کو ردّ کر دیا ہے۔ اس معاہدے کے لیے دو یورپی کمپنیوں کو شارٹ لِسٹ کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے، جب بھارت میں تعینات امریکی سفیر بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔

default

روئٹرز نے نئی دہلی میں وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور اسپین کی جانب سے مشترکہ طور پر بنائے جانے والے یورو فائٹر اور فرانس کے رافال کو منتخب کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گیارہ ارب ڈالر مالیت کے اس معاہدے کے لیے امریکی کمپنیوں لاکہیڈ مارٹن کے ایف سولہ اور بوئنگ کے ایف اے اٹھارہ سپر ہارنیٹ طیارے بھارتی فضائیہ کی تکنیکی ضروریات پر پورے نہیں اترے۔

بھارت نے اس معاہدے کے لیے سویڈن کے ساب JAS-39 اور روس کے مِگ 35 کو بھی رد کر دیا ہے۔ حالانکہ بھارتی فضائیہ طویل عرصے تک روسی طیاروں پر انحصار کرتی رہی ہے۔

لاکہیڈ اور بوئنگ امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کو طیارے فراہم کرنے والی اہم کمپنیاں ہیں۔ انہوں نے بھارت سے اس معاہدے کے حصول کے لیے وسیع تر کوششیں کی تھیں۔ یہ دونوں کمپنیاں ہی اس معاہدے سے اخراج کے بعد وضاحت کی متمنی ہیں۔ انہوں نے بھارتی منڈی میں سودوں کے لیے کوشاں رہنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

بوئنگ حکام کے مطابق موجودہ معاہدے کے حصول میں ناکامی سے قطع نظر وہ بھارت کو طویل المدتی سرمایہ کاری اور پارٹنر شپ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ لاکہیڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ دیگر چھ C-130J عسکری ٹرانسپورٹ طیاروں کی فراہمی کے لیے بھارت سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

ILA Schönefeld 2008

یورو فائٹر برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور اسپین کی جانب سے مشترکہ طور پر بنائے جاتے ہیں

خبررساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنیوں کو مسترد کرنے کے اقدام سے امریکہ کے ساتھ قریبی اسٹریٹیجک تعلقات مؤخر ہو سکتے ہیں۔ امریکی کمپنیوں کے لیے اس معاہدے کے حصول کی کوششوں میں صدر باراک اوباما بھی شامل رہے ہیں۔

اس حوالے سے نئی دہلی میں امریکی سفیر ٹموتھی روئمر نے کہا کہ واشنگٹن حکومت کو بہت مایوسی ہوئی ہے۔ اسی دوران روئمر مستعفی بھی ہو گئے ہیں۔ وہ دو برس سے بھی کم عرصے تک اس عہدے پر فائز رہے۔ نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے مطابق روئمر ذاتی اور پیشہ ورانہ وجوہات کے باعث مستعفی ہوئے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس