1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت کو جدید ترین لڑاکا طیارے فراہم کرنے میں امریکی دلچسپی

امریکہ نے بھارت کو اپنے جدید ترین لڑاکا طیارے فروخت کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ صرف چھ ماہ پہلے بھارت نے دو پرانے طرز کے امریکی جنگی جہازوں کے گیارہ بلین ڈالرز کے ایک معاہدے کو مسترد کر دیا تھا

default

امریکی وزارت دفاع کی جانب سے بھارت امریکہ سکیورٹی تعاون کے حوالے سے کانگریس کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر دہلی حکومت نے ایف تھرٹی فائیو جوائنٹ سٹرائیک فائیٹرز طیاروں کے حصول میں دلچسپی ظاہر کی تو پینٹاگون انہیں اس جدید لڑاکا طیارے کی سکیورٹی اور بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے تمام معلومات فراہم کرنے پر بھی آمادہ ہے۔

جنوبی ایشیا امورکے اسسٹنٹ سیکریٹری دفاع رابرٹ شکر نے اس حوالے سےکہا کہ ایف تھرٹی فائیو طیاروں کے معاملے میں ہم بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور بھارت کو اس سلسلے میں معلومات کے لیے درخواست کرنی چاہیے۔

ایف تھرٹی فائیو پینٹاگون کے ہتھیاروں کے حصول کے پروگرام کا حصہ ہیں، جس پر کافی لاگت آئی ہے۔ ریڈار پر نظر نہ آنے والے یہ ایئر کرافٹ آٹھ بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے تیار کیے گئے ہیں۔ انتظامی عہدیداروں کے مطابق دو ہزار چار سو سینتالیس جیٹ طیاروں کی فراہمی کے لیے لگ بھگ تین سو بیاسی بلین ڈالرز لاگت آئے گی۔

بھارت کو جدید ترین لڑاکا طیارے فراہم کرنے میں امریکی دلچسپی

بھارت کو جدید ترین لڑاکا طیارے فراہم کرنے میں امریکی دلچسپی

ماضی میں اس امریکی منصوبے میں بھارت نےکوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔ بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ وہ ان جدید ایئر کرافٹس کی اپنے ملک میں تیاری اور اس پر آنے والی لاگت کی وجہ سے اس پروگرام میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ بھارت نے ایک سو چھبیس جیٹ فائیٹرز کے لیے دو یورپی دفاعی اداروں کو شارٹ لسٹ کیا تھا۔

نو صفحات پر مشتمل پینٹاگون کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف طریقوں پر غور کر رہا ہے اور اس تعاون میں مشترکہ طور پر ہتیھاروں کی تیاری سمیت عسکری تعاون بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق دفاع کے علاوہ بھارت کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مواقعوں کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM