1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

بھارت: کم عمری کی شاديوں کی روک تھام ميں مساجد کا کردار

ٹیکنالوجی کے ليے معروف بھارتی شہر حیدر آباد میں کم سن لڑکیوں کو عرب مردوں کو فروخت کیے جانے کے عمل کو اب مساجد کی مدد سے روکا جا رہا ہے۔ مقامی مساجد اس مسئلے کے حل کے لیے پر عزم نظر آتی ہیں۔

نیوز ایجنسی تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ماضی قریب میں کئی ايسے واقعات منظر عام پر آئے ہیں، جن میں کم سن بھارتی لڑکیوں کو اکثر ادھیڑ عمر عرب مردوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اکثر یہ لڑکیاں گھروں میں ملازم کے طور پر کام کرتی ہیں اور انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک ایسے ہی کیس کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ بھارت کی ایک سولہ سالہ لڑکی کی شادی عمان کے ایک 65 سالہ مرد کے ساتھ پانچ لاکھ روپے کے عوض کر دی گئی تھی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی اس لڑکی نے روتے ہوئے اپنی ماں کو فون کیا۔ حیدر آباد پولیس کے مطابق اس لڑکی کے والد نے دستاویزات میں اپنی بیٹی کی عمر غلط ظاہر کی تھی۔ بھارت میں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی ممنوع ہے۔  اس لڑکی کے والد کو پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس اس قاضی کو بھی ڈھونڈ رہی ہے، جس نے اس لڑکی کا پینسٹھ سالہ شخص کے ساتھ نکاح پڑھایا تھا۔ مقامی پولیس کے مطابق بھارت میں کئی سرکاری ایجنسیاں سولہ سالہ متعلقہ لڑکی کو واپس بھارت لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

Indien jügendliche Protituierte gerettet in Bombay (imago/UIG)

عمر رسیدہ عرب مردوں کے ساتھ شادیوں کا سلسلہ حیدرآباد میں کافی پرانا ہے

کم عمری ميں شادیوں کے خلاف مہم جوئی کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ہر سال ایسی کئی شادیاں کر دی جاتی ہیں اور کم عمر لڑکیوں کو عرب ممالک بھیج دیا جاتا ہے۔ ان لڑکیوں کو وہاں زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حیدرآباد میں’ ڈسٹرک چائلڈ پروٹیشکن‘ کے افسر امتیاز رحیم نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا،’’ یہ انسانی اسمگلنگ ہے، جسے شادی کے لبادے میں چھپا دیا جاتا ہے۔‘‘ امتیاز کا کہنا ہے کہ مساجد کی مدد سے ایسے قاضیوں کے لائسنسز کو منسوخ کر دیا گیا ہے، جنہوں نے کم عمر لڑکیوں کے نکاح پڑھائے تھے۔ امتیاز کے مطابق ان مساجد کو یہ ہدایات بھی دی جا رہی ہیں کہ وہ خطبات میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف بات کریں۔ امتیاز کے مطابق مساجد کی جانب سے آگہی پھیلانا کافی سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔

عمر رسیدہ عرب مردوں کے ساتھ شادیوں کا سلسلہ حیدرآباد میں کافی پرانا ہے۔ ’شاہین ویمنز ریسورس اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن‘ کی بانی جمیلہ نشاط کے مطابق قوانین کی سختی سے کم عمری کی شادیوں کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ لیکن ایسے کیسز منظر عام پر آ رہے ہیں جن میں لڑکیوں کو کام کے ویزے پر مشرق وسطیٰ لے جایا جاتا ہے اور وہاں جا کر انہیں شادی کے چنگل میں پھنسا دیا جاتا ہے۔

DW.COM