1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کشمیر میں بربریت بند کرے، پاکستان کا مطالبہ

پاکستان نے آج حریف ہمسایہ ملک بھارت پر بربریت کا الزام لگاتے ہوئے اس بات کی مذمت کی کہ کشمیر کے بھارت کے زیر انتظام حصے میں نئی دہلی کی حکمرانی کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف خونریز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

default

کشمیر میں ’بھارتی جبر اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کا سلسلہ‘ بند ہونا چاہئے

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں کہا کہ پاکستان اس ’’بربریت اور طاقت کے اندھا دھند استعمال کی بھر پور مذمت کرتا ہے، جس کے بھارتی سکیورٹی دستے کشمیر میں مظاہرین کے خلاف خونریز کارروائیوں کے دوران مرتکب ہو رہے ہیں۔‘‘

شاہ محمود قریشی نے کہا: ’’کشمیر میں بھارتی جبر اور انسانی حقوق کی شدید اور منظم خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ پاکستان بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیر میں مظاہروں پر قابو پانے کے سلسلے میں احتیاط پسندی کا مظاہرہ کرے۔

Pakistan Außenminister Shah Mehmood Qureshi

پاکستان کشمیر میں طاقت کے اندھا دھند استعمال کی بھر پور مذمت کرتا ہے، قریشی

پاکستانی وزیر خارجہ نے کشمیر میں مظاہرین کی گرفتاریوں، ان کے جیلوں میں بند کئے جانے اور سکیورٹی دستوں کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں ان کی ہلاکتوں کو ناقابل قبول قرار دیا۔

بھارتی سکیورٹی دستوں نے کشمیر کے بھارت کے زیر انتظام حصے کے تمام بڑے شہروں اور بد امنی کے شکار علاقوں میں اس لئے چھ روز کا کرفیو لگا رکھا ہے کہ وہاں شہریوں کے مشتعل گروپوں کی طرف سے توڑ پھوڑ اور آتشزنی کے ان واقعات پر قابو پایا جا سکے جو اب تک مسلسل پھیلتے ہی جا رہے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جون میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے اور کشمیر میں نئی دہلی کی حکمرانی کی مذمت میں کئے جانے والے مظاہروں کے دوران اب تک 90 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کی بہت بڑی اکثریت سکیورٹی دستوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئی۔

قریب تین ماہ سے جاری بہت خونریز ثابت ہونے والے اس احتجاج کے دوران مسلم اکثریتی آبادی والے کشمیر میں اس ہفتے پیر کا دن گزشتہ کئی برسوں کے دوران سب سے خونریز دن ثابت ہوا تھا۔ اس روز بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 17 مظاہرین مارے گئے تھے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس