1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کسی زعم میں نہ رہے، سرحد کا دفاع کرنا جانتے ہیں، چین

کوہ ہمالیہ میں واقع ڈوکلام علاقے میں چین اور بھارت سرحدی تنازعے میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس علاقے کے ایک مقام پر بھارت اور چین کے علاوہ بھوٹان بھی اپنا حق جتاتا ہے۔

چین کی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل وُوچیان نے آج پیر چوبیس جولائی کو کہا کہ اُن کی پیپلز لبریشن آرمی اپنے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا بخوبی جانتی ہے۔ ترجمان نے بھارت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سطح مرتفع ڈوکلام پر کسی عسکری مہم جوئی کی کوشش نہ کرے وگرنہ صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔

’پہلے فوجیں ہٹاؤ‘ چین کی بھارت کو تنبیہ

متنازعہ خطے سے بھارتی فوجی انخلا امن کی پہلی شرط، چینی سفیر

چین اور بھارت باہمی کشیدگی کی جانب بڑھتے ہوئے

کرنل وُوچیان نے پیپلز لبریشن آرمی کے قیام کے نوے برس مکمل ہونے پر کہا کہ اس آرمی نے اپنے ملک کی سرحدوں کے تحفظ کو ہمیشہ فوقیت دی ہے۔ انہوں بھارت کو خبردار کیا کہ وہ قسمت آزمائی کی کوئی کوشش مت کرے اور کسی زعم میں مبتلا نہ ہو کیونکہ چین اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کا عزم کیے ہوئے ہے۔

Heißluftballons - Branson-Ballon über dem Himalaya (picture-alliance/dpa/T. Boccon-Gibod)

کوہ ہمالیہ میں واقع ڈوکلام علاقے میں چین اور بھارت سرحدی تنازعے میں الجھے ہوئے ہیں

چینی وزارت دفاع کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ نوے برسوں کی تاریخ میں پیپبلز لبریشن آرمی نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور ملکی اتحاد کو مسلسل مضبوط کرنے میں مصروف رہی ہے۔ خیال رہے کہ چین اسی علاقے سے ایک سڑک کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے جو پہاڑی علاقے یادونگ سے تبت جائے گی۔

ڈوکلام کے مقام پر چین، بھارت اور بھوٹان کی سرحدیں ملتی ہیں۔ اس علاقے کے ایک حصے پر تینوں ملک اپنا حق جتاتے ہیں۔ اس ملکیتی تنازعے کی وجہ سے دونوں بڑے ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔ اس سرحدی مقام کے قریب چین ایک سڑک تعمیر کر رہا ہے اور بھارت اس کی مخالفت کرتا ہے۔

بھارت نے چین سے کہا ہے کہ دونوں ملک اپنی اپنی فوجیں سرحد سے واپس بلاتے ہوئے اس تنازعے کو مذاکراتی عمل سے حل کرتے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان ساڑھے تین ہزار کلومیٹر لمبی سرحد ہے۔ دونوں ملک سن 1962 میں سرحدی تنازعے پر ایک خونی جنگ بھی لڑ چکے ہیں۔ 

 

DW.COM