1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کا پاکستان پر محدود حملے کا ممکنہ منصوبہ

وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ دوہزار نو کے ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے پاکستان پر ’’کولڈ اسٹارٹ‘‘ نامی محدود حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔

default

بھارتی فوجی کشمیر سرحد پر

منصوبے کے تحت بھارتی فوج کو ممبئی جیسے حملے کی صورت میں 72 گھنٹوں کے اندر پاکستان میں فورسز کو داخل کرکے محدود حملہ کرنا تھا۔ پروگرام کے مطابق حملہ اس طرح کیا جانا تھا کہ پاکستان سے جوہری جنگ نہ چھڑ سکے اور بھارتی فوج اپنا آپریشن بھی مکمل کر لے۔

وکی لیکس کی جانب سے شائع ہونے والے دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ نئی دہلی میں امریکی سفیر نے اپنے خفیہ مراسلے میں وائٹ ہاوس کو اس منصوبے سے آگاہ کیا کہ انڈین آرمی کے پاس ایسی صلاحیت موجود نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے اندر داخل ہو، حملہ کرے اور واپس آجائے۔ انہوں نے اپنے مراسلے میں یہ بھی کہا کہ بھارت کو جنگ کے لئے تیار ہونے میں عشرے نہیں تو کئی برس ضرور لگیں گے۔

Indische Soldaten an der indisch-pakistanischen Grenze

بھارتی فوجی پاکستانی سرحد کے قریب مورچے میں

بھارت میں امریکی سفیر ٹم روئیمر نے اپنے خفیہ مراسلے میں کہا کہ پاکستان 2004 ء سے اس بھارتی منصوبے سے اگاہ ہے اور خائف نہیں ہے۔ تاہم بھارتی منصوبے پر پاکستان اور امریکہ میں تشویش ضرور پائی جاتی ہے۔ امریکی سفیر نے مزید لکھا کہ ممبئی حملوں کے بعد بھارت کے پاس پاکستان پر حملے کا موقع تھا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں ’’کولڈ اسٹارٹ‘‘ منصوبے پر تحقیق کرنے والے سکیورٹی امور کے ایک ماہر والٹر لیڈویگ کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارتی فوج کے پاس یہ منصوبہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ میں بھی کئی افراد ایسے ہیں، جو اس منصوبے کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے۔’’ کولڈ اسٹارٹ کا منصوبہ ابھی تجرباتی حالت میں ہے۔ اس منصوبے کے بارے میں قیاس آرائیاں بھی موجود ہیں لیکن اس منصوبے کی تکمیل کے لئے ایک دہائی سے زائد عرصہ درکار ہوگا۔‘‘

لیڈویگ کا کہنا ہے کہ بھارتی آرمی کے پاس صرف 20 فیصد بکتر بند گاڑیاں ایسی ہیں، جو رات کے اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے منصوبوں کی کامیابی اور نقل وحمل کے لئے جن ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بھی بھارتی افواج کے پاس مطلوبہ تعداد میں موجود نہیں ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: کشورمصطفٰی

DW.COM