1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت کا فرزند ہوں، دلائی لامہ

تبتی باشندوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کو بھارت میں جلاوطنی کے زندگی گزارتے ہوئے نصف صدی یعنی پورے پچاس برس ہوگئے ہیں۔

default

اس سلسلے میں بھارت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس تبتی رہنما نے کہا کہ گزشتہ پانچ دہائیوں میں جو کھانا انہوں نے سب سے زیادہ کھایا وہ ’بھارتی دال چاول‘ تھے اور وہاں اتنے طویل قیام کے باعث وہ خود کو بھارت کا بیٹا تصور کرتے ہیں۔

74 سالہ دلائی لامہ 1959 میں، جب وہ 24 سال کے تھے، تبت میں چین کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے تھے۔ وہ بھیس بدل کر اور ایک گھوڑے پر سوار ہوکر 30 اپریل 1960 کو بھارت پہنچے تھے۔ اس دور کے بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے انہیں رہنے کے لئے دھرم شالہ کا پہاڑی علاقہ پیش کیا تھا، جہاں وہ اب تک مقیم ہیں۔

Dalai Lama Flash-Galerie

1950 ء میں چین کے کمیونسٹ فوجی دستوں نے تبت پر قبضہ کیا تھا، 1954 میں جب ماؤ زے تنگ نے اقتدار سنبھالا تو دلائی لامہ نے مبینہ طور پر تبت میں تعمیر نو کے سلسلے میں ان کا شکریہ ادا کیا

اپنے ہزاروں پیروکاروں کے ہمراہ دلائی لامہ کی بھارت میں موجودگی کے پچاس سال مکمل ہونے پر ان کی ’’مرکزی تبتی انتظامیہ‘‘ نامی جلاوطن حکومت نے دھرم شالہ میں ایک تقریب منعقد کی۔ یہ انتظامیہ خود کو تبتی باشندوں کی نمائندہ حقیقی لیکن جلاوطن حکومت قرار دیتی ہے، جس کے سربراہ تینزن گیاتسو ہیں۔

بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پریم کمار دھومل نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دلائی لامہ امن، محبت، انسانیت اور برداشت کی علامت ہیں اور ان کی مہمان داری پر اس ریاست کے لوگوں کو فخر ہے۔

بھارت کے شمال مشرق میں واقع علاقے دھرم شالہ میں منعقدہ اس تقریب سے اپنے خطاب میں دلائی لامہ نے کہا کہ تبتی برادری بھارت کے علاوہ ان دیگر ریاستوں کی بھی شکر گزار ہے جنہوں نے تبتیوں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔

Tibet China Aufstand 1959 Dalai Lama in Indien bei Nehru

دلائی لامہ کی جواہر لال نہرو کے ساتھ ایک یادگار تصویر

دلائی لامہ کے بقول طویل جلاوطنی میں انہوں نے تبتی عوام کے حوالے سے اپنے مقاصد کے سلسلے میں بہت کچھ حاصل کیا ہے جس پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارت میں ’’طویل ترین عرصے تک قیام کرنے والے مہمان‘‘ ہیں۔

چین اب بھی دلائی لامہ کو بدھ بھکشو کے لباس میں ایک ’’بھیڑیا‘‘ قرار دیتا ہے جو بیجنگ کے بقول چین کو توڑنا چاہتا ہے۔

دلائی لامہ کا البتہ مؤقف یہ ہے کہ وہ تبت پر چینی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہیں البتہ تبت کے خطے کے لئے ’بامعنی خودمختاری‘ کے خواہش مند ہیں۔ دلائی لامہ کو عالمی طور پر لوگوں میں بدھ مذہب سے متعلق دلچسپی پیدا کرنے کے حوالے سے بھی شہرت حاصل ہے۔ وہ انسانی ذہنیت کے مختلف پہلوؤں سمیت بہت سے موضوعات پر درجنوں کتابیں لکھ چکے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM