بھارت: ڈاکٹروں کی ملک گیر ہڑتال | معاشرہ | DW | 02.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: ڈاکٹروں کی ملک گیر ہڑتال

بھارت میں روایتی طریقہ علاج اور ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی ڈاکٹروں کے برابر درجہ دینے اور طبی تعلیم میں تبدیلیوں والے ایک متنازعہ قانونی مسودے کے خلاف تین لاکھ ڈاکٹروں نے دو دسمبر کو ملک گیر ہڑتال کی۔

مودی حکومت کا کہنا ہے کہ نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) بل 2017 کے ذریعے وہ بھارت میں میڈیکل تعلیم اور ہیلتھ کیئر کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لانا چاہتی ہے۔ اس سے بدعنوانی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں سے نجات مل سکے گی۔ اس بل کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں آیوروید ، دیگر بھارتی طریقہ علاج اور ہومیو پیتھی کے ڈاکٹروں کو صرف ایک برج کورس کرنے کے بعد ایلوپیتھی طریقہ علاج کی پریکٹس کرنے کی اجازت مل جائے گی۔
بھارت میں ڈاکٹروں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے)نے اس مسودہ قانون کو عوام مخالف اور مریض مخالف بتاتے ہوئے آج دو دسمبر کو ’یوم سیاہ ‘قرار دیتے ہوئے ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ جس کے بعد صبح چھ بجے سے ملک کے تمام حکومتی ہسپتالوں کے ڈاکٹر ہڑتال پر چلے گئے۔ ڈاکٹروں نے ہسپتالوں کے باہر مظاہرے بھی کئے۔ مختلف شہروں میں نجی ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں نے بھی ہڑتالی حکومتی ڈاکٹروں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر ہڑتال میں حصہ لیا۔

افغان مریضوں کا علاج بھارتی ہسپتالوں میں
آئی ایم اے کا کہنا ہے کہ اگر یہ مسودہ قانون منظور کر لیا جاتا ہے تو اس سے بھارت میں طبی تعلیم اور ہیلتھ کیئر کے شعبے میں بدعنوانی کا سیلاب آجائے گا۔ اس سے ملک میں علاج کا معیار بھی گر ے گا اور یہ مریضو ں کی دیکھ بھال اور ان کی سلامتی کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔


اپوزیشن سیاسی جماعت کانگریس نے بھی اس مسودہ قانون کی مخالفت کی، جس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہا کہ حکومت نیشنل میڈیکل کمیشن بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجنے کے خلاف نہیں ہے اور اسے وزارت صحت کی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجنے کا اعلان کیا گیا۔ اس کمیٹی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رکن پارلیمان ہوتے ہیں۔ اسٹینڈنگ کمیٹی میں کسی مسودہ قانون کو بھیجنے کا مطلب عام طور پر اسے سردخانے میں ڈالنا سمجھا جاتا ہے۔

نیم حکیم اپنی دوا کے ہاتھوں تین مریضوں سمیت ہلاک

ہڑتال کی وجہ سے طبی خدمات بری طرح متاثر ہوئیں ہیں۔ حکومت نے صورت حال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اس قانونی مسودے کو پارلیمان میں پیش کرنے کے بعد منظورکرانے کے بجائے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا اعلان کیا، جس کے بعد ڈاکٹروں نے اپنی ہڑتال واپس لے لی اور مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کے جان میں جان آئی۔‘‘
اس مسودہ قانون میں ایک شق یہ بھی ہے کہ بھارت میں کسی بھی میڈیکل کالج سے میڈیکل میں گریجویٹ طالب علم کو کورس مکمل کرنے کے بعد قومی سطح کا ایک امتحان دینا ہوگا۔ اس امتحان میں کامیابی کے بعد ہی اس کی باضابطہ رجسٹریشن ہو سکے گی۔ پہلے اس طرح کا امتحان دیگر ملکوں سے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر کے بھارت آنے والے طالب علموں کو دینا پڑتا تھا لیکن نئے مسودہ قانون میں انہیں اس سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔
مسودہ قانون میں میڈیکل کالجوں میں مینجمنٹ کا کوٹہ پندرہ فیصد سے بڑھا کر ساٹھ فیصد کر دیا گیا ہے۔کالج مینجمنٹ کو اس کے لئے فیس کا تعین کرنے کی اجازت ہو گی۔ آئی ایم اے کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ قانون نافذ ہو جاتا ہے تو جہاں ایک طرف غریب بچے میڈیکل تعلیم حاصل کرنے کا صرف خواب ہی دیکھ سکیں گے، وہیں دوسری طرف ملک میں ڈاکٹروں کی کمی کے سبب لوگوں کو علاج سے محروم رہنا پڑے گا۔
اعدادو شمار کے مطابق ایک ارب تیس کروڑ آبادی والے بھارت میں تقریباً دس لاکھ ایلوپیتھک ڈاکٹر ہیں۔ ان میں صرف 1.1 لاکھ ڈاکٹر ہی حکومتی اداروں میں کام کرتے ہیں اس لئے دیہی علاقوں میں تقریباً نوے کروڑ آبادی کو صحت کی دیکھ بھال کے لیے انتہائی کم ڈاکٹر میسر ہیں۔
آئی ایم اے کے سابق صدر ڈاکٹر کے کے اگروال کا کہنا ہے، ’’یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ دیہی علاقوں میں مریض کو ڈاکٹر کے بجائے پہلے نیم حکیموں کے پاس لے جایا جاتا ہے، وہ ڈاکٹروں کی طرح علاج کرنے کا ڈرامہ کرتے ہیں اور جب مریض کی حالت بگڑ جاتی ہے، تب لوگ اسے ہسپتال لے جاتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر اگروال کہتے ہیں،’’کچھ نیم حکیم تو صرف بارہویں درجہ تک پاس ہوتے ہیں۔ ان کے پاس کسی میڈیکل کالج کی کوئی ڈگری نہیں ہوتی۔ تشویش کی دوسری بات یہ ہے کہ ملک میں خاطر خواہ پروفیشنل ڈاکٹر نہیں ہیں۔ کئی ڈاکٹر دیہی علاقوں میں جانا پسند نہیں کرتے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وارڈ بوائے تک دیہی علاقوں میں خود کو ڈاکٹر بتانے لگتے ہیں۔

DW.COM