1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: پرانے رشوت اسکینڈل کی بازگشت

بھارتی سیاسی و حکومتی تاریخ میں اسی کی دہائی کا بوفورز اسکینڈل انتہائی اہم خیال کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس وقت کی کانگریس حکومت الیکشن ہار گئی تھی۔ اب اس اسکینڈل کا پھر سے شور سنا جا رہا ہے۔

بھارتی وزیر خزانہ پرناب مکھر جی نے کہا ہے کہ حکومت سن 1980 کی دہائی کے بوفورز معاملے پر دوبارہ سے نظرثانی کر رہی ہے۔ اس حوالے سے بھارتی انکم ٹیکس ٹریبیونل نے چند نئے شواہد کی دستیابی کے بعد

Ottavio Quattrocchi, italienischer Geschäftsmann

اطالوی تاجر کو بوفورز اسکینڈل میں مڈل مین خیال کیا جاتا ہے

تفتیشی حکام کو اس معاملے کی مزید تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک لیڈر ارون جیٹلی نے اس کو ایک سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دفاعی ڈیل کے دوران چودہ ارب ڈالر سے زائد کی کِک بیکس کا معاملہ پارلیمنٹ کے ہر فورم پر لانا بہت ضروری ہے۔ حکمران کانگریس پارٹی کو پہلے سے ہی بعض مالی اسکینڈلز کا سامنا ہے اور اس وجہ سے اپوزیشن نے پارلیمنٹ کی کارروائی کو تقریباً مفلوج کر رکھا ہے۔

حالیہ چند ہفتوں سے حکمران کانگریس پارٹی کو مرکزی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مالی بدعنوانیوں کے معاملے پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اس مناسبت سے اپوزیشن پارٹی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ من موہن سنگھ حکومت کو ٹیلی کام اسکینڈل کے بعد سے سخت ترین اپوزیشن تنقید برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔

Chief of Central Bureau of Investigation (CBI), R. K. Raghavan

بھارتی تفتیشی ادارہ اطالوی تاجر کی بھارت منتقلی کا خواہشمند ہے

وزیر خزانہ پرناب مکھر جی کا کہنا ہے کہ حکومت اُس بھارتی ٹیکس حکام کے حکم کا بغور مطالعہ کر رہی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بوفورز اسکینڈل کے دوران اربوں ڈالر مڈل مین کے ذریعے ادا کئے گئے تھے اور ان کی ازسرنو جانچ پڑتال کی جائے۔ اس طرح یہ بیان بھارتی مرکزی تفتیشی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے اس بیان کے الٹ ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ بوفورز ڈیل میں کک بیکس کی شہادت موجود نہیں ہے۔

سن 1986 میں یورپی ملک سویڈن کی اسلحہ ساز بڑی کمپنی اے بی بوفورز کے ساتھ راجیو گاندھی حکومت نے ایک ڈیل کی تھی اور تب سے یہ اسکینڈل بھارتی سیاست پر سیاہ بادل کی طرح مسلسل منڈلا رہا ہے۔ اس اسکینڈل میں ایک اطالوی تاجر Ottavio Quattrocchi کو مڈل مین خیال کیا جاتا ہے۔ سن 1989 میں راجیو گاندھی اسی اسکینڈل کی وجہ سے پارلیمانی انتخبات میں شکست کھا گئے تھے۔ سن 2004 میں راجیو گاندھی کے قتل کے تیرہ سال بعد ان کا نام عدالتی حکم کے بعد اسکینڈل سے صاف کردیا گیا تھا۔ لیکن یہ مالی بدعنوانی کا معاملہ اب بھی راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی کے سامنے کھڑا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس