1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت پاکستان مذاکرات لشکر طیبہ کے خلاف ایکشن سے مشروط

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے واشنگٹن میں ہونے والی دو روزہ جوہری سلامتی کانفرنس کے اختتام پر کہا ہے کہ اگر پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے تو نئی دہلی اسلام آباد کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہے۔

default

منگل کے روز اپنے ایک بیان میں من موہن سنگھ نے کہا کہ پاکستان کو کم از کم ان مذاکرات کے لئے یہ کارروائی کرنا ہی ہوگی۔

بھارت ممبئی حملوں کی ذمہ داری پاکستانی عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ پر عائد کرتا ہے۔ 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے ان دہشت گردانہ حملوں میں کم از کم 166 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارت کے علاوہ امریکہ نے بھی اس سلسلے میں پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ لشکر طیبہ کے خلاف بھرپور کارروائی کرے۔

بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ نئی دہلی پاکستان سے امید رکھتا ہے کہ وہ ممبئی میں ہوئے خونریز حملوں کے منصوبہ سازوں کے خلاف قابل بھروسہ اقدامات کرے۔ ان کے بقول : ’’اگر پاکستان ایسا کرتا ہے تو ہم بصد خوشی تمام مسائل کے حوالے سے مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرنا چاہیں گے۔‘‘

Pakistan Ministerpräsident Yousaf Raza Gilani

اس سے قبل وزیراعظم گیلانی نے بھارتے سے مزید شواہد کا مطالبہ کیا تھا

پاکستان کی سیاسی حکومت کے ملک کے شمال مغرب میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کو امریکی حکام نے خوب سراہا تاہم یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ لشکر طیبہ کے خلاف بھی ٹھوس اقدامات کرے۔

امریکی اور بھارتی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ اس لئے کر رہا ہے کہ وہ ان عسکریت پسندوں کو بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لئے مضبوط سہارا سمجھتا ہے۔

اس سے قبل پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے واشنگٹن میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر بھارت کی جانب سے ٹھوس شواہد پیش کئے جائیں تو پاکستان لشکر طیبہ کے خلاف موثر کارروائی کے لئے تیار ہے۔

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ نئی دہلی اسلام آباد کو پہلے ہی کافی شواہد مہیا کر چکا ہے اور یہ شواہد لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کے لئے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دئے گئے ثبوتوں میں ان ٹیلی فون کالز کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے، جو دہشت گردوں اور منصوبہ سازوں کے درمیان گفتگو پر مبنی ہیں اور جنہیں بھارتی خفیہ اداروں نے ریکارڈ کر لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام حقائق کی موجودگی میں پاکستان کو مزید ثبوت دینے کی ضرورت نہیں بنتی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM