1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بھارت: پاکستانی ڈرامے بند کرنے کا فیصلہ

بھارت کے مشہور میڈیا گروپ ’زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزز لمیٹڈ‘ نے ڈراموں کے حوالے سے اپنے مشہور زندگی ٹی وی پر پاکستانی ڈرامے نہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ قبل ازیں پاکستانی فنکاروں کو بھی بھارت چھوڑنے کی دھکمیاں مل چکی ہیں۔

نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ملک کے مشہور زندگی ٹیلی وژن نے پاکستانی شوز نہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ زی کے سربراہ سبھاش چندر کا کہنا تھا کہ ان کے ٹی وی پر پاکستان، مصر اور ترکی کے ڈرامے وغیرہ دکھائے جاتے تھے لیکن اب پاکستانی ڈرامے نشر کرنا بند کر دیے جائیں گے۔ سبھاش چندر کا اس حوالے اس ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر ’مایوس کن‘ تھی۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پاکستانی فنکاروں کو فوری طور پر بھارت چھوڑ دینا چاہیے۔

پاکستانی ٹی وی پر ترک ثقافتی یلغار

زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزز لمیٹڈ (زیڈ ای ای ایل) نے زندگی ٹی وی سن 2014 میں لانچ کیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ ٹی وی متعدد پاکستانی ڈرامے نشر کر چکا ہے۔ ان مشہور ڈراموں میں عون زارا، ہم سفر، کتنی گھڑیاں باقی ہیں، مات اور زندگی گلزار ہے شامل ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستانی ڈراموں کو اپنے اچھے معیار کی وجہ سے وسیع آبادی والے بھارت میں بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بھارتی فلمیں پاکستان میں بہت مشہور ہیں۔

سبھاش چندر سے پہلے بھارت کی ایک انتہا پسند سیاسی جماعت مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) نے بھارت میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں کو بھارت چھوڑنے کی دھمکی دی تھی۔ اس دھمکی کے فوراﹰ بعد پاکستانی فنکاروں فواد اور مائرہ خان کی فلموں کی شوٹنگ بند کر دی گئی تھی۔

اس پارٹی کا بالی ووڈ کے پروڈیوسروں اور پروڈکشن کے اداروں کو ایک کھلے خط میں دھمکی دیتے ہوئے کہنا تھا کہ جب ملک میں ہی اتنے زیادہ فنکار موجود ہیں تو انہیں ہمسایہ ملک کے فنکاروں کی کیا ضرورت ہے؟

اس ہندو انتہا پسند تنظیم کا کہنا تھا کہ پاکستانی فنکار بھارتی فنکاروں کے مواقع کو ہائی جیک کر رہے ہیں۔ ایم این ایس نے یہ بھی دھمکی دی تھی کہ وہ ممتاز فلم ہدایتکار کرن جوہر کی جانب سے پروڈیوس کی جانے والی فلم ’اے دل ہے مشکل میں‘ کو ریلیز نہیں ہونے دیں گے کیوں کہ اس میں پاکستانی اداکار فواد خان کو کاسٹ کیا گیا ہے۔ یہ فلم اگلے کچھ دنوں میں ریلیز ہونے والی ہے۔

DW.COM