1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

بھارت: ٹی بی کے دس لاکھ سے زائد مریض غائب

بھارت کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جو ٹی بی کے مرض سے انتہائی بری طرح متاثر ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ملک کے سرکاری اعداد و شمار میں سے دس لاکھ سے زائد مریض غائب ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی لینسیٹ جریدے میں جمعرات کو شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں دس لاکھ سے زائد مریض لاپتہ ہو گئے ہیں۔ امپیریل کالج لندن کے محققین کا کہنا ہے ٹی بی کے بہت سے مریض اپنا علاج نجی ڈاکٹروں سے کروانا شروع کر دیتے ہیں اور نجی ڈاکٹر یا نجی ہسپتال ایسے کیس حکومت کو رپورٹ ہی نہیں کرتے۔

بھارت کا قومی ٹی بی پروگرام، عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے چل رہا ہے اور اس پروگرام کے تحت ایسے مریضوں کے کوائف بھی جمع کیے جاتے ہیں، جو ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہیں تاکہ اس حوالے سے درجہ بندی کی جا سکے یا حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو۔

سن دو ہزار چودہ کے حکومتی اعداد و شمار میں یہ بتایا گیا تھا کہ نجی ہسپتالوں میں ٹی بی کے تقریباﹰ آٹھ لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا ہے لیکن ٹی بی مرض کی ادویات کی فروخت کے حوالے سے تحقیق کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ ایسے مریضوں کی تعداد تقریبا بیس لاکھ تھی۔ کیوں کہ اس برس تقریباﹰ بیس لاکھ مریضوں کے لیے ادویات فروخت کی گئی تھیں۔

امپیریل کالج لندن کے محققین کا اس رپورٹ میں مزید کہنا تھا، ’’دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ٹی بی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اب ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ بھارت میں یہ بیماری کس قدر بڑھ چکی ہے اور اس ملک کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے، جو بری طرح اس سے متاثر ہیں۔‘‘

رپورٹ کے مطابق 1.2 ارب کی آبادی والے اس بڑے ملک میں ایسے مریضوں کو ڈھونڈنا یا ان سے متعلق صحیح اعداد و شمار جمع کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، ’’ اس حوالے سے کئی اقدامات کیے گئے ہیں اور نجی سیکٹر کے ساتھ بھرپور تعاون بھی کیا جا رہا ہے لیکن پھر بھی یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق اس مرض کے حوالے سے حکومتی خصوصی پروگرام کے باوجود سالانہ لاکھوں کیس ایسے ہوتے ہیں، جن میں یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ مریض ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہے۔ دیہی علاقوں کے ہزاروں مریض ایسے ہیں، جو جدید ہسپتالوں تک جا ہی نہیں سکتے۔