1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: ویڈیوز منظر عام پر، کیا بھوپال پولیس مقابلہ جعلی تھا؟

بھارت کے وسطی صوبے مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں آٹھ قیدیوں کی ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت پر اب سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور دو ویڈیوز منظر عام پر آ جانے کے بعد یہ پورا واقعہ مشکوک ہوگیا ہے۔

Indien Tihar Gefängnis in New Delhi (ROBERTO SCHMIDT/AFP/GettyImages)

پولیس کے مطابق مارے جانے والے تمام آٹھ قیدی بھوپال سینٹرل جیل سے فرار ہو گئے تھے

مدھیہ پردیش پولیس نے اسلام پسند طلبہ کی ممنوعہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کے بھارت کی محفوظ ترین جیلوں میں سے ایک بھوپال سینٹرل جیل سے فرار ہونے والے آٹھ مبینہ انتہا پسندوں کے کل پیر اکتیس اکتوبر کو ایک مسلح مقابلے کے دوران مارے جانے کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا تھا لیکن موبائل فون سے بنائی گئی دو ویڈیوز کے منظر عام پر آ جانے سے اس بارے میں پولیس کے دعوے مشکوک ہوگئے ہیں۔

ان میں سے ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح زمین پر گرے ہوئے ایک زخمی قیدی کو بہت قریب سے گولی ماری گئی جب کہ دوسری ویڈیو میں ایک شخص ایک دوسرے شخص کو ایک زخمی قیدی کو ماں کی گالی دیتے ہوئے اسے گولی مار دینے کے لیے کہتا سنائی دیتا ہے۔ ان دونوں ویڈیوز کے اصلی ہونے کی البتہ ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی۔

ان ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد بھارتی اپوزیشن جماعتوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے مرکزی سیکرٹری اٹل کمار انجان نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے اس پولیس مقابلے کو ’ریاستی تعاون سے قتل‘ کا واقعہ قرار دیا اور کہا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کو اس پورے معاملے کی چھان بین کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ملکی سپریم کورٹ کو بھی اس واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لینا چاہیے۔ اٹل کمار انجان نے پوچھا کہ جیل میں رہنے کے باوجود ان قیدیوں کے جسموں پر بالکل نئے کپڑے اور ہاتھوں میں گھڑیاں تک آخر کہا ں سے آ گئی تھیں۔

Oberstes Gericht in Neu Delhi (cc-by-nc-sa roop1977)

بھارتی سپریم کورٹ (تصویر میں) ماورائے عدالت ہلاکتوں کے اس واقعے کا از خود نوٹس لے، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سیکرٹری جنرل کا مطالبہ

بھارتی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے، ’’جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے، یہ مبینہ پولیس مقابلہ فرضی تھا۔ جو بھی اس کے لیے ذمہ دار ہے، نہ صرف وہ جنہوں نے یہ نام نہاد مقابلہ کیا اور وہ بھی جنہوں نے اس کا حکم دیا، تمام سینیئر افسران اور سیاسی رہنماؤں کو بھی موت کی سزا دی جانا چاہیے۔‘‘

ریٹائرڈ جسٹس کاٹجو نے دوسری عالمی جنگ کے بعد نیورمبرگ کی عدالت میں مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ نیورمبرگ میں ان افسران کو بھی سزا ئے موت سنائی گئی تھی، جن کا کہنا تھا کہ انہوں نے تو صرف حکام بالا کے احکامات پر عمل کیا تھا۔

اپوزیشن کانگریس پارٹی کے سیکرٹری جنرل دگ وجے سنگھ نے ٹوئٹر پر اپنے متعدد پیغامات میں لکھا، ’’یہ بہت عجیب بات ہے کہ رات ڈھائی بجے وہ جیل سے فرار ہوئے اور صبح آٹھ بجے تک ایک ساتھ گھومتے رہے۔ یہ تمام باتیں اور ویڈیوز کے منظر عام پر آنے سے ایسا لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہوئی ہے۔ اس کی عدالتی انکوائری کرائی جانا چاہیے۔ اگر مفرور قیدیوں کو زندہ پکڑ لیا جاتا، تو پورے معاملے کی تفصیلات مل سکتی تھیں لیکن اس طرح پورا معاملہ بھی سامنے آ جاتا، شاید اسی لیے وہ سب مار دیے گئے۔‘‘

صوبے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرشاد یادو نے بھی اس مبینہ پولیس مقابلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس بارے میں ریاستی پولیس کے اعلیٰ افسران کے بیانات میں بھی اختلافات موجود ہیں۔

ادھر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما اور مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو کا کہنا ہے، ’’کچھ لوگ ’سیمی‘ کے انتہاپسندوں کے ساتھ ہمدردی کیوں کر رہے ہیں؟ انتہاپسند پہلے بھی جیل سے بھاگے تھے، اس مرتبہ بھی ایک گارڈ کو مار کر فرار ہو رہے تھے، حالات کو دیکھتے ہوئے یہ انکاؤنٹر عمل میں آیا۔ اسے سیاسی شکل اور فرقہ ورانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کا کہنا تھا، ’’اس معاملے پر گندی سیاست کی جا رہی ہے۔‘‘

Arvind Kejriwal (AFP/Getty Images)

دو ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد یہ پولیس مقابلہ انتہائی مشکوک ہو چکا ہے، نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا موقف

بھارت میں مجرموں کے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مسلح مقابلے عام سی بات ہیں۔ ایک ہفتہ قبل ہی ریاست آندھرا پردیش اور ریاست اوڈیشہ (اوڑیسہ) کی پولیس نے مل کر انتہائی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے 24 ماؤ نواز باغیوں کو ملکان گری ضلع میں ایک تصادم کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔ حقوق انسانی کی تنظیموں نے اسے بھی ایک جعلی پولیس مقابلہ قرار دیا تھا۔

ملکی پارلیمان میں مرکزی حکومت کی طرف سے دیے گئے ایک بیان کے مطابق اپریل 2011 سے لے کر جون 2014 تک کے درمیانی عرصے میں پولیس کے خلاف جعلی مقابلوں کے 368 واقعات درج کرائے گئے جب کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کو اکتوبر 2015 سے لے کر ستمبر 2016 تک کے عرصے میں ملکی پولیس کے خلاف جعلی مقابلوں کی کل 206 تحریری شکایات موصول ہوئیں۔

اسی دوران تازہ ترین اور مشکوک ہو چکے پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین نے اس معاملے کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے ذریعے انکوائری کروانے کے لیے مدھیہ پردیش ہا ئی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

DW.COM