1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت نے گیارہ پاکستانی قیدیوں کو رہا کر دیا

بھارت نے پاکستان کے گیارہ قیدیوں کو’’خیر سگالی کے جذبے کی بنیاد‘‘ پر آج رہا کر دیا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین انتہائی کشیدہ تعلقات کے درمیان پاکستانی قیدیوں کی رہائی کو ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارتی حکام نے آج گیارہ پاکستانی شہریوں کو واگہ سرحد پر پاکستانی حکام کے سپرد کیا۔ یہ پاکستانی شہری گزشتہ کئی برسوں سے بھارت کی مختلف جیلوں میں قید تھے۔ بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ ان قیدیوں کو ’’انسانی ہمدردی کی بنیادوں‘‘ پر رہا کیا گیا ہے اور امید ہے کہ پاکستان بھی اسی طرح خیر سگالی کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی جیلوں میں قید بھارتی شہریوں کو رہا کرے گا۔ دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ رہا کیے جانے والے قیدی اپنی سزائیں مکمل کر چکے ہیں۔
بھارتی بحریہ کے مبینہ جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستانی فوجی عدالت کی طرف سے پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین انتہائی کشیدہ تعلقات کے درمیان پاکستانی قیدیوں کی رہائی کو ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین اسے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں گزشتہ آٹھ جون کو شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے غیر رسمی ملاقات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ چند لمحوں کی اس ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی نے ہارٹ سرجری کے بعد نواز شریف سے ان کی صحت کا حال پوچھا تھا اور ان کی والدہ اور دیگر رشتہ داروں کی خیریت دریافت کی تھی۔

Pakistan - Pressekonferenz über indischen Spion - Kulbhushan Yadav (Getty Images/AFP/A. Qureshi)

بھارتی بحریہ کے مبینہ جاسوس کلبھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین انتہائی کشیدہ تعلقات کے درمیان پاکستانی قیدیوں کی رہائی کو ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے


بھارت نے گزشتہ ہفتے بھی دو پاکستانی بچوں گیارہ سالہ علی رضا اور دس سالہ بابر کو رہا کرکے وطن واپس بھیج دیا تھا جو صوبہ پنجاب سے غلطی سے سرحد پار کر کے بھارتی علاقے میں چلے گئے تھے تاہم ان کا چچا محمد شہزاد فی الحال بھارتی حکام کی حراست میں ہیں۔
یوں تو بھارت اور پاکستان وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کے قیدیوں کو رہا کرتے رہتے ہیں تاہم باہمی تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ان قیدیوں کو اپنی سزائیں مکمل کر لینے کے باوجود غیر معینہ مدت تک جیلوں میں رہنا پڑتا ہے۔ بھارتی وزرات خارجہ کا کہنا ہے کہ اس وقت ایک سو بتیس بھارتی پاکستان کی جیلوں میں قید ہیں۔ ان میں ستاون نے اپنی سزائیں مکمل کر لی ہیں۔ لیکن ان کی شہریت کی باضابطہ تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے ان کی رہائی نہیں ہوسکی ہے۔ ان ایک سو بتیس قیدیوں میں چون سویلین اور اٹھہتر ماہی گیر ہیں۔وزارت خارجہ نے حقوق اطلاعات کے تحت حاصل کردہ معلومات میں بتایا ہے کہ اس سال جنوری سے اپریل کے درمیان پاکستان سے ایک بھی بھارتی سویلین قیدی رہا نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ ان کی رہائی سے قبل بھارت کو ان کی شہریت کی تصدیق کرنا ہوگی۔

Indien Grenze Pakistan (Getty Images/AFP/T. Mustafa)

بھارت نے گزشتہ ہفتے بھی دو پاکستانی بچوں گیارہ سالہ علی رضا اور دس سالہ بابر کو رہا کرکے وطن واپس بھیج دیا تھا جو صوبہ پنجاب سے غلطی سے سرحد پار کر کے بھارتی علاقے میں چلے گئے تھے تاہم ان کا چچا محمد شہزاد فی الحال بھارتی حکام کی حراست میں ہیں


پاکستانی جیلوں میں بند بھارتی شہریوں کو بھارت کی طرف سے فراہم کی جانے والی کسی طرح کی قانونی مدد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزارت خارجہ کاکہنا تھا کہ ’’ اس حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے پی اے آئی (پاکستان ،افغانستان، ایران) ڈویژن کے پاس کوئی اطلاع دستیاب نہیں ہے۔‘‘
پاکستانی جیلوں میں قید بھارتیوں کی رہائی کے لئے سرگرم سماجی کارکن پردیپ کمار کا کہنا ہے کہ’’ان میں سے زیادہ تر افراد انتہائی غریب ہیں اور ان کے گھر والوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی جیلوں میں بند ہیں اور اگر ان میں سے کسی کو معلوم ہے بھی، تب بھی انہیں یہ پتہ نہیں کہ کیا کرنا چاہیے۔ حتی کہ حکومت بھی پاکستانی جیلوں میں قید بھارتیوں کا خیال نہیں رکھتی ہے۔

 پردیپ کمار اس کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ صوبہ یو پی کے بریلی شہر کا یشپال پاکستانی علاقے میں داخل ہوگیا تھا اور سینٹرل جیل ساہیوال میں بند تھا۔ اس کی رہائی کے لئے پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن نے وزارت داخلہ کو اس کی شہریت کی تصدیق کے لئے خط لکھا۔ وزارت داخلہ نے اس کے بعد اتر پردیش کی ریاستی حکومت سے رابطہ کیا اور یہ معاملہ دو سال تک یونہی فائلوں میں دبا رہا۔ جولائی 2013 میں جب یشپال رہا ہوا تو وہ ذہنی طور پر مریض تھا۔ اسی دن رہا ہونے والے چھ دیگر بھارتی قیدیوں میں سے چار ذہنی امراض کا شکار تھے۔ جب پردیپ کمار نے بھارتی وزارت خارجہ سے معلوم کیا کہ پاکستانی جیلوں میں بند کتنے بھارتی شہری ذہنی مریض بن چکے ہیں تو وزارت خارجہ کا جواب تھا، ’’ان کے پاس اس طرح کی کوئی معلومات دستیا ب نہیں ہے۔‘‘