1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بھارت نے کرکٹ سیریز کے لیے پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دے دی

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہر یار خان اپنے بھارتی ہم منصب ششانک منوہر سے ملنے رواں ماہ بھارت جائیں گے۔ اس بات کا انکشاف شہر یارخان نے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

Shaharyar Khan

شہر یارخان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے کرکٹ میچز کی مقبولیت دیگر میچوں سے بڑھ کر ہے

پاکستان اور بھارت کے کرکٹ بورڈز نے گزشتہ برس ایک ایم او یو پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک کو اگلے آٹھ برس میں چھ سیریز کھیلنا ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ چند ماہ میں سرحدی کشیدگی بڑھنے سے رواں برس دسمبر میں ہونے والی سیریز کا انعقاد مشکوک ہو گیا تھا۔

دبئی میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر اورآئی سی سی کے صدر شری نواسن کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا۔ جس کے بعد بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ ( بی سی سی آئی) کے صدر ششانک منوہر نے انہیں بھارت آکر مذاکرات کرنے کی دعوت دی۔

شہریار خان کے مطابق بھارتی بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس اگلے ہفتے ہو رہا ہے، جس کے بعد وہ نئی دہلی یا ممبئی جا کر بھارتی ہم منصب سے مذاکرات کریں گے۔ بی سی سی آئی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت کی سیریز کا معاملہ ایجنڈے میں شامل ہو گا۔ شہر یار کے مطابق سیریز کے بارے میں بھارت کا حتمی جواب انہیں اگلے دس روز میں مل جائے گا۔

شہر یارخان نے کہا کہ انہیں ششانک منوہر نے یقین دلایا ہے کہ بھارتی بورڈ عالمی کرکٹ میں پاکستان کے مفاد کی مخالفت نہیں کرے گا اور دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز اپنے تعلقات بہتر بنائیں گے۔ پروگرام کے مطابق پاکستان کو دسمبر میں خیلج میں بھارت کے خلاف دو ٹیسٹ اور پانچ ایک روزہ میچوں کی میزبانی کرنا ہے۔

شہر یارخان نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے کرکٹ میچز کی مقبولیت دوسرے کھیلوں سے بڑھ کر ہے، ’’ میں نے آئی سی سی کو یاد دلایا کہ وہ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ سیریز کو ایشیز سے بڑا قرار دے چکی ہے۔ اس لیے اس سیریز کی بحالی میں اسے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ آئی سی سی کو بتایا گیا ہے کہ حالیہ ورلڈ کپ میں پاکستان بمقابلہ بھارت میچ ٹیلی ویژن پر دیکھا جانے والا اسپورٹس کی تاریخ کا سب بڑا ایونٹ تھا۔

شہریار خان کے مطابق اگلے سال کامن ویلتھ کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔ کامن ویلتھ ٹیم میں کوئی ریٹائرڈ کھلاڑی نہیں ہو گا بلکہ یہ ٹیم انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور بھارت کی موجودہ کرکٹرز پر مشتمل ہوگی۔ یہ میچز لاہور کے علاوہ کراچی اور فیصل آباد میں بھی کرائے جائیں گے اور اس سے پاکستان پر عالمی کرکٹ کے بند دروازے مزید کھلیں گے۔

Cricket Sport Fans Pakistan

’بھارتی بورڈ عالمی کرکٹ میں پاکستان کے مفاد کی مخالفت نہیں کرے گا‘

شہریار خان نے مزید کہا کہ نومبر میں آئی سی سی ٹاسک فورس کے چیئرمین جائلز کلارک پاکستان آ رہے ہیں اور ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ ، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی جونیئر ٹیموں کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش نے ٹیمیں بھیجنے کی حامی بھر لی ہے۔

فاسٹ باؤلر محمد عامر کے ڈومیسٹک میچ میں خراب رویے کے بارے میں سوال پر چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ عامر پر جرمانے کے علاوہ ایک سخت وارننگ بھی دی گئی ہے۔ اب اگلے چھ ماہ تک ان کے رویے کو سختی سے مانیٹر کیا جائے گا۔ اگر اس میں بہتری نہ آئی تو کارکردگی دکھانے کے باوجود وہ پاکستانی قومی ٹیم میں واپس نہیں آسکیں گے۔

شہریار خان نے انگلینڈ کے خلاف ابو ظہبی ٹیسٹ میں جاوید میانداد کا سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز کا قومی ریکارڈ توڑنے پر یونس خان کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ یونس کو انعام سے نوازا جائے گا اور پی سی بی ان کے لیے بینیفٹ میچ کرانے کی کوشش کرے گا۔