1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت نے پاکستان کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست دے دی

ممبئی میں دہشت گردی کے بعد بھارت نے بیس انتہائی مطلوب افراد کی فہرست پاکستان کےحوالے کردی ہےجبکہ پاکستان نے بھارت کو دہشت گردی کےخلاف مشترکہ نظام تشکیل دینے کی پیشکش کی ہے۔

default

انتہائی مطلوب افراد کی فہرست پاکستانی ہائی کمشنر کو بھارتی دفتر خارجہ نے پیر کی رات فراہم کی ہے۔

خبررساں ادارے Reuters کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ پاناب مکھرجی نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو ممبئی میں دہشت گردی کے بعد بیس مطلوبہ افراد کی فہرست فراہم کردی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ فہرست پاکستانی ہائی کمشنر کو بھارتی دفتر خارجہ نے پیر کی رات فراہم کی ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ بھارت نے پاکستان سے داؤد ابراہیم اور مولانا مسعود اظہر کو فوری طور پر نئی دہلی کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ادھراسلام آباد میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پالیسی کے حوالے سے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستانی قیادت نے بردباری کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور حکومت متحد ہے اور پاکستان کا بھرپور دفاع کرسکتے ہیں ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ممبئی میں دہشت گردی کے بعد دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے سے گریز کر تے ہوئے سمجھ داری سے کام لینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے موجودہ صورتحال میں بھارت کو مشترکہ کمیشن اورمکینزم کی پیشکش کی ہے ۔ پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ یہ کمپوزٹ ڈائیلاگ بالکل صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے تھے اور ان کو جاری رہنا چاہیئے۔

دوسری جانب پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کو ممبئی دھماکوں کے ثبوت مہیا کرے۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے امریکی ٹیلی ویژن چینل CNN کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ اگر بھارت نے ممبئی دھماکوں میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کئے تو بھارت سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے کچھ تنظیموں کے نام دیئے ہیں لیکن یہ ثبوت نہیں ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ اگر بھارت ثبوت فراہم کرے گا تو پاکستان مکمل تعاون کرے گا۔

یوسف گیلانی نے آئی ایس آئی کے سربراہ کو ممبئی دھماکوں کی تحقیقات میں مدد کے لئے بھارت بھیجنے کے فیصلے پر فوج اور حکومت میں اختلافات کی تردید کی۔ وزیر اعظم نے ان اطلاعات کی بھی نفی کی جن میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان قبائلی علاقہ میں تعینات فوج کو مشرقی سرحد پر منتقل کرسکتا ہے یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور وہ پوری ذمہ داری کا ثبوت دے گا۔