1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت نے پاکستانی ہندوؤں کو طویل المدتی ویزے جاری کر دیے

بھارت اور پاکستان میں جاری کشیدہ تعلقات کے درمیان نریندر مودی حکومت نے پاکستان کے چار سو سے زائد ہندوؤں کو طویل المدتی ویزے جاری کردیے ہیں، جس کے بعد وہ ملک میں کسی بھی جگہ جائیداد خریدنے کے اہل ہو گئے ہیں۔

بھارتی وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا ہے کہ پڑوسی ملکوں میں ’ظلم و زیادتی‘ کی شکار اقلیتوں کی مدد کرنے کی نریندر مودی حکومت کی پالیسی کے حصے کے طور پر حکومت نے چار سو اکتیس پاکستانی ہندوؤں کو طویل المدتی ویزے جاری کئے ہیں۔ اب یہ لوگ پین کارڈ (پی اے این) اور آدھار کارڈ (یو آئی ڈی) جیسے اہم سرکاری دستاویزات حاصل کر سکتے ہیں۔ بھارت میں پین (پرماننٹ اکاؤنٹ نمبر) اور آدھار کارڈ (منفرد شناختی نمبر) جیسی دستاویزات بینک اکاؤنٹ کھولنے، گاڑی یا جائیداد وغیرہ کی خریداری کے لئے لازمی ہیں۔

پاکستانی ہندوؤں کے لیے ابھی ’تقسیم ہند‘ مکمل نہیں ہوئی
حکومت نے ان پاکستانی ہندوؤں کو ملازمت یا کاروبار کرنے کے لئے ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں جانے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ فی الحال بھارت آنے والے پاکستانی شہریوں کو مختلف مقامات پر جانے کے لئے الگ الگ اور پیشگی اجازت لینی پڑتی ہے۔ حکومت کے فیصلے کے بعد بھارت میں رہنے والے پاکستانی ہندو اب ڈرائیونگ لائسنس بھی بنوا سکتے ہیں اور مرکزی بینک یعنی ریزرو بینک آف انڈیا کی اجازت کے بغیر بھی بینک کھاتے کھلوا سکتے ہیں۔
وزارت داخلہ کے افسر کا تاہم کہنا تھا کہ فی الحال پاکستانی ہندوؤں کو طویل مدتی ویزے کے تحت ملنے والی تمام سہولیات دی جارہی ہیں تاہم قومی سلامتی کے مدنظر ان پر بعض پابندیاں بھی عائد رہیں گی۔ مثلاً انہیں صرف اپنی فیملی کی رہائش اور خود روزگار کے لئے مناسب جگہ خریدنے کی اجازت ہوگی لیکن وہ فوجی چھاونی والے علاقوں سمیت ممنوعہ علاقوں کے اطراف میں غیر منقولہ جائیدادیں نہیں خرید سکیں گے۔


وزارت داخلہ کے افسر کے مطابق بھارت سرکار کی حالیہ پالیسی کے تحت پاکستان کے علاوہ افغانستان اور بنگلہ دیش میں رہنے والے ہندو، سکھ، بدھ،جین ، پارسی اور عیسائی فرقے کے لوگوں کو طویل المدتی ویزے جار ی کئے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ ان کے ملکوں میں امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
بھارت میں رہنے والے پاکستانی ہندوؤں کی اصل تعدادکے بارے میں یوں تو کوئی سرکاری اعدادو شمار دستیاب نہیں ہے لیکن گزشتہ کئی برسوں کے دوران یہ لوگ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں سرحد پار کرکے دہلی اور دیگر شمالی ریاستوں مثلاً راجستھان اور ہریانہ پہنچتے رہے ہیں۔ یہاں پہنچنے کے بعد وہ سیاسی پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔ 2011ء  کے بعد سے اب تک تقریباً دو ہزار پاکستانیوں کو بھارتی شہریت دی جاچکی ہے، جن میں بڑی اکثریت ہندوؤں کی ہے۔
دریں اثناء حکومت نے احمدیہ فرقے سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ سو پاکستانی شہریوں کو بھارت آنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ لوگ بھارتی پنجاب میں سرحدی گرداس پور ضلع کے قادیان قصبے میں احمدیہ فرقے کے بانی مرزا غلام احمد کی یاد میں منعقد ہونے والے 123ویں سالانہ جلسے میں شرکت کریں گے۔ یہ جلسہ 29 سے31 دسمبر کے درمیان ہو رہا ہے۔
گزشتہ برس پٹھان کوٹ اور اڑی میں واقع فوجی ٹھکانے پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے مدنظر بھارت نے احمدیہ فرقہ کے کسی بھی فرد کو سکیورٹی کلیئرنس نہیں دی تھی۔ جب کہ 2015ء  میں حکومت نے پانچ ہزار احمدیوں کو بھارت آنے کی اجازت دی تھی۔ وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے دفتر اور وزارت خارجہ کے ساتھ صلاح و مشورہ کے بعد احمدیہ فرقے سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ سو افراد کے پہلے بیج کی سکیورٹی کلیئرنس دے دی گئی ہے، ’’ہمیں امید ہے کہ پاکستان اور دیگر ملکوں سے آنے والے احمدیہ فرقے کے مزید افراد کو ویزے جاری کر دئے جائیں گے تاکہ وہ اس سالانہ جلسے میں شرکت کرسکیں۔‘‘
خیال رہے کہ پاکستان کے برعکس بھارت میں احمدیوں کو مسلمان تسلیم کیاجاتا ہے۔ متعدد مسلم تنظیموں کی مخالفت اور عالمی شہرت کے حامل دینی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند کی طرف سے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے حوالے سے جاری فتوی کے باوجود یہاں حکومت نے 2011ء کی مردم شماری میں انہیں مسلمانوں کے خانے میں رکھا تھا۔

DW.COM