1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

 بھارت نے ’ون بلیٹ ون روڈ‘ منصوبے کا بائیکاٹ کر دیا

بھارت نے آج اتوار کو چین میں نئی شاہراہ ریشم یا ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے پر ہونے والے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ ایشیا کے دو بڑے ہمسائیہ ملکوں کے باہمی روابط میں یہ ایک نئی دراڑ ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال بگلے نے کہا، ’’ربط سازی یا کنیکٹویٹی منصوبوں میں کسی بھی ملک کی خود مختاری اور سالمیت کا لازمی طور پر خیال رکھا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی ملک ایسا کوئی بھی منصوبہ تسلیم نہیں کر سکتا، جس میں اس کی خود مختاری اور سالمیت کے حوالے سے بنیادی خدشات کو نظر انداز کیا گیا ہو۔

 پاکستان اور چین کے مابین سی پیک نامی اقتصادی راہ داری بھی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں شامل ہے۔ سی پیک منصوبے کے لیے بنائی گئی سڑک کا کچھ حصہ گلگت بلتستان کے علاقے سے بھی گزرتا ہے۔ یہ علاقے پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکا حصہ ہیں، جن پر بھارت ملکیت کا دعوی کرتا ہے۔ اسی وجہ سے نئی دہلی حکومت اس سے قبل پاکستان اور چین کے مابین سی پیک نامی اقتصادی راہ داری منصوبے کی بھی مخالفت کر چکی ہے۔

بھارت او چین کے تعلقات گزشتہ مہینوں میں اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے تھے، جب نئی دہلی حکومت نے کہا تھا کہ بیجنگ نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں اس کی رکنیت کے حصول میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ ساتھ ہی چین نے شدت پسند تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے خلاف اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی بھارتی قرار داد کو بھی ویٹو کر دیا تھا۔ نئی دہلی حکومت بھارت میں ہونے والے متعدد دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری جیش محمد پر ہی عائد کرتی ہے۔

اسی طرح چین نے بھی گزشتہ ماہ نئی دہلی سے اس وقت احتجاج کیا جب بھارتی حکومت نے تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کو اپنی شمال مشرقی ریاست ارونا چل پردیش کا دورہ کرنے کی اجازت دی تھی۔ بیجنگ حکومت اس علاقے کی ملکیت کی دعوے دار ہے۔ بھارتی شہر دھرم شالہ کو جلا وطن تبتیوں کا مرکز بھی کہا جاتا ہے۔