1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت نے ’ساؤتھ ایشیا سیٹلائٹ‘ لانچ کر دیا

بھارت نے اپنی اسپیس ڈپلومیسی کے تحت سارک ملکوں کو ’تحفہ‘ دیتے ہوئے آج ’ساؤتھ ایشیا سیٹلائٹ‘ لانچ کردیا ہے۔ پاکستان کا انحصار اس حوالے سے چین پر ہے اور اس نے پہلے ہی یہ تحفہ قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

’ساوتھ ایشیا سیٹلائٹ‘ کو جنوبی بھارت کے صوبہ آندھرا پردیش میں سری ہری کوٹہ میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے آج پانچ مئی کو شام تقریباً پانچ بجے خلاء میں بھیجا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کامیابی پر بھارتی سائنس دانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں کہا، ’’اس سے جنوبی ایشیا اور ہمارے خطے کو کافی فائدہ ہوگا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے اور اس نے ملکوں کے ساتھ روابط کے نئے افق کھول دیے ہیں۔‘‘
 

پچاس میٹر اونچے اور  بائیس سو تیس کلوگرام وزن والے اس سیٹلائٹ کی تیاری پر 235 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔ تاہم لانچ سمیت اس پورے پروجیکٹ پر تقریباً 450کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ اس مشن کی مدت بارہ سال ہوگی۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد جون 2014ء  میں جنوبی ایشیائی ملکوں کے لئے ’سارک سیٹلائٹ‘ کا تحفہ دینے کی بات کہی تھی۔ نومبر 2014ء میں کٹھمنڈو میں اٹھارہویں سارک سربراہی کانفرنس میں بھی انہوں نے اس کا آئیڈیا پیش کیا۔ ابھی گزشتہ تیس اپریل کو انہوں نے اپنی ماہانہ ریڈیو تقریر میں بھی اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اسے سب کا ساتھ، سب کا وکاس(ترقی)‘‘ کے اصول پر تیار کیا گیا ہے۔ اس سے پڑوسی ملکوں کی ضرورتوں کی تکمیل ہو سکے گی اور یہ جنوبی ایشیا میں تعاون بڑھانے کے سمت ایک قابل ذکر قدم ہے۔
سارک سیٹلائٹ منصوبہ: ’پاکستان کو بھارت کی ضرورت نہیں‘
خیال رہے کہ اس پروجیکٹ میں نیپال، بھوٹان، مالدیپ، بنگلہ دیش اور افغانستان شامل ہیں، جب کہ پاکستان نے اس میں شمولیت سے انکار کردیا تھا۔ اس کے انکار کے بعد ہی اس پروجیکٹ کا نام ’سارک سیٹلائٹ‘ سے بدل کر ’ساؤتھ ایشیا سیٹلائٹ‘ کیا گیاتھا۔ اسے دسمبر 2016ء میں ہی لانچ کرنے کا پروگرام تھا لیکن بعض وجوہات کی بناء پر اس میں تاخیر ہوگئی۔ دوسری طرف افغانستان نے ابھی اس پر باضابطہ دستخط نہیں کئے ہیں۔
بھارت کے خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کے ذریعے تیار کردہ یہ سیٹلائٹ ایک کمیونیکیشن سیٹلائٹ ہے۔ اس کا کم از کم ایک ایک ٹرانسپانڈر شریک ملکوں کو دیا جائے گا۔ اسے استعمال کرنے والے ممالک اطلاعات کو اپ لنک اور ڈاؤن لنک کر سکیں گے۔ زلزلے، سونامی اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے دوران مواصلاتی رابطہ برقرار رکھنے میں یہ سیٹلائٹ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے پروجیکٹ میں شامل ممالک اپنے اپنے ٹی وی پروگراموں کی نشریات کو بہتر بناسکیں گے اور ٹیلی میڈیسن کی سہولیات کو فروغ دے سکیں گے۔


جنوبی ایشیا میں بھارت کو چھوڑ کر دیگر ممالک سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں کافی پیچھے ہیں۔ سائنسی امور کے ماہر پلو باگلا کے مطابق اس سیٹلائٹ کے لانچ کے بعد بھارت کو پڑوسی ملکوں پر چین کے بڑھتے اثرات کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر بھارت اپنے اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہا ہے اور ایسے میں ساؤتھ ایشیا سیٹلائٹ اس سمت میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
یہاں تاہم اس بات پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اتنے اہم پروگرام کے حوالے سے اسرو نے بہت سی تفصیلات راز میں کیوں رکھیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں یہ پہلا موقع ہے، جب میڈیا کو اس کی کوریج کی دعوت نہیں دی گئی جب کہ اسرو اس طرح کے پروگراموں کی کوریج کے لئے ملک بھر سے تقریباً دو سو نامہ نگاروں کو مدعو کرتا تھا۔

اس کی تفصیلات بھی کل شام کو ہی اسرو نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کی تھیں جب کہ عام طور پر کوئی سیٹلائٹ لانچ کرنے سے پانچ روز قبل ہی اس کی تفصیلات ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردی جاتی تھی۔
ساؤتھ ایشیاسیٹلائٹ کو لانچ کئے جانے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹیلی کانفرنس کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ، افغانستان کے صدر اشرف غنی، بھوٹان کے وزیر اعظم زیرنگ ٹوگبے، مالدیپ کے صدر عبداللہ یمین، نیپال کے وزیر اعظم پرچنڈ، سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سیناکے ساتھ بات چیت کی، جسے قومی ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا۔

DW.COM