بھارت: ’نچلی اور اعلیٰ ذات‘ کے ہندوؤں کے درمیان جھڑپیں | حالات حاضرہ | DW | 03.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: ’نچلی اور اعلیٰ ذات‘ کے ہندوؤں کے درمیان جھڑپیں

بھارت کے مغربی صوبے مہاراشٹر میں دو سو سال قبل پیش آئے ایک واقعے کی یاد منانے پر ’نچلی اور اعلیٰ ذات کے ہندوؤں‘ کے درمیان جھڑپوں کے بعد تشدد کا سلسلہ تقریباً اٹھارہ شہروں تک پھیل گیا ہے۔

پونے شہر سے شروع ہونے والے تشدد کی وجہ سے مہاراشٹر میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اقتصاد ی دارالحکومت ممبئی کی لائف لائن سمجھی جانے والی لوکل ٹرینوں کو روک دیا گیا، بسوں میں توڑ پھوڑ کی گئی، میٹرو ریل سروس بند رہی اور پروازوں پر بھی اثر پڑا۔ کئی سیاحتی مقامات پر غیر ملکی سیاح پھنس گئے۔ اسکول اور کالج بند کردیے گئے، یونیورسٹیوں نے اپنے امتحانات ملتوی کردیے۔

ممبئی کے گھروں اور دفاتر میں کھانا پہنچانے کے لئے مشہور ڈبہ والوں کی تنظیم نے بھی آج اپنی خدمات بند رکھیں۔ دکانوں اور تجارتی اداروں کو احتیاط کے طور پر بند رکھا گیا۔کچھ شہروں میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے اور حکم امتناعی نافذ کردیا گیا ہے۔ حکومت نے صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کی ہے۔ ریاست گیر ہڑتال کی اپیل بھارت کے آئین ساز ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کے پوتے اور سماجی کارکن پرکاش امبیڈکر نے کی تھی۔ ڈھائی سو سے زائد تنظیموں اور بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
معاملہ کیا ہے؟
دراصل یہ جھگڑا 29 دسمبر کو اس وقت شروع ہوا، جب پونے کے ایک گاؤں میں ہندوؤں میں نچلی ذات کے سمجھے والے دلتوں کے ایک رہنما گووند مہاراج کے قبر پر حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد یکم جنوری کو دلت پونے کے بھیما کوریگاوں جنگ کی دو صد سالہ سالگرہ یوم شجاعت کے طور پر منانے کے لئے جمع ہوئے، جہاں ’اعلیٰ اور نچلی ذات‘ کے ہندوؤں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہو گئی، جس میں ’نچلی ذات‘ کا ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔ صوبائی وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس واقعے کی عدالتی انکوائری کرانے اور ہلاک ہونے والے شخص کے خاندان کو دس لاکھ روپے معاوضہ کے طور پر دینے کا اعلان کیا لیکن اس کے باوجود تشدد کا سلسلہ پھیلتا چلا گیا۔


پارلیمان میں ہنگامہ
مہاراشٹرکے اس واقعے پر آج تین جنوری کو پارلیمان میں بھی ہنگامہ ہوا۔ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں یہ معاملہ اٹھا۔ ہنگامے کی وجہ سے ایوان بالا کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ ایوان زیریں (لوک سبھا) میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کانگریس کے ملک ارجن کھڑگے نے کہا، ’’اس واقعے کے پیچھے سماج میں تفرقہ پیدا کرنے والے (ہندوقوم پرست جماعت) آر ایس ایس کے لوگ ہیں۔ انہوں نے ہی یہ کام کیا ہے۔‘‘ انہوں نے اس واقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے ایوان میں بیان دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ دوسری طرف حکمراں بی جے پی کی طرف سے پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا، ’’کانگریس ذات پات کی کشیدگی بھڑکار رہی ہے اور مہاراشٹر میں امن قائم کرنے میں مدد کرنے کے بجائے تقسیم اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔‘‘


تنازع کی جڑ کیا ہے؟
دو سو سال قبل یکم جنوری 1818ء کو پونے کے بھیما کوریگاوں میں برطانوی حکومت اور مقامی حکمراں ’اعلی ذات‘ کے ہندو پیشوا باجی راو دوئم کی فوج کے درمیان جنگ ہوئی تھی۔ انگریزوں کی آٹھ سو کی فوج میں مہار ( ہندووں کی نچلی ) ذات کے پانچ سو جوان تھے، جنہوں نے پیشوا کی اٹھائیس ہزار کی بہت بڑی فوج کو ہرا دیا۔ پیشوا کی فوج میں گو کہ بہت سے غیر ملکی جوان بھی شامل تھے تاہم اس میں مہار ذات کا کوئی جوان نہیں تھا۔ اس فتح کو دلت فرقے کے لوگ اعلی ذات کے برہمنوں کے خلاف جنگ اور اپنی فتح سمجھتے ہیں۔ مورخین کہتے ہیں کہ پیشوا حکمرانوں نے مہاروں کے ساتھ کبھی اچھا سلوک نہیں کیا۔ مہاروں کو اپنی کمر میں ایک جھاڑو باندھ کر چلنا پڑتا تھا تاکہ ان کے پاوں کے نشان جھاڑو سے مٹتے چلے جائیں۔


اس جنگ میں کامیابی کے بعد برطانوی حکومت نے 1851ء  میں بھیما کوریگاوں میں ایک جنگی یادگار تعمیر کرائی۔ مہار فوجیوں کو ان کی بہادری اور شجاعت کے لئے اعزاز سے نوازا گیا اور یادگار پر جنگ میں مارے گئے مہاروں کے نام کنندہ کرا دیے۔ ہرسال وہاں یکم جنوری کو پورے بھارت سے دلت جمع ہوتے ہیں۔ دلتوں کے عظیم رہنما اور بھارت کے آئین ساز ڈاکٹر بی آر امبیڈکر بھی 1927ء میں اس یادگار پر خراج عقیدت پیش کرنے گئے تھے، جس کے بعد یہ جگہ دلتوں میں کافی مقبول ہوگئی۔ اس سال یکم جنوری کو بھی وہاں ملک بھر سے تقریباً تین لاکھ افراد شرکت کے لئے آئے تھے۔
سیاست گرم
اس معاملے پر سیاست گرم ہوگئی ہے۔ کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر  لکھا’’ بی جے پی، آر ایس ایس کی فسطائی سوچ ہے کہ دلت ہمارے سماج کی سب سے نچلی سیڑھی پر ہی رہیں۔ اونا، روہت ویمولا اور بھیما کوریگاوں کے واقعات اسی طرح کی سوچ کے خلاف آوازیں ہیں۔‘‘ دلت رہنما، اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی کا کہنا تھا، ’’وہاں بی جے پی کی حکومت ہے اور انہوں نے ہی تشدد کرایا ۔‘‘ مہاراشٹر میں حکمراں بی جے پی کی حلیف ہندو قوم پرست جماعت شیو سینا کے رہنما سنجے راوت نے اس واقعے کو خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی کی ناکامی قرار دیا ہے۔

دوسری طرف قوم پرست ہندو جماعتوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ترجمان من موہن ویدیہ نے کہا، ’’آر ایس ایس سماج کو جوڑنے کا کام کرتا ہے، توڑنے کا نہیں ، کچھ لوگ سیاسی فائدے کے لئے تشدد کو فروغ دیتے ہیں اور کانگریس پہلی مرتبہ اس پر الزام نہیں لگا رہی ہے۔‘‘
سیاسی مضمرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے سیاسی مضمرات یقینی ہیں۔ مہاراشٹر میں جہاں 2019ء میں انتخابات ہونے والے ہیں، اعلی ذات کے ہندو مراٹھا پہلے ہی اس سے ناراض ہیں، ایسے میں دلت بھی دور ہوگئے تو اس کے لئے مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ صوبے میں دلتوں کی آبادی ایک کروڑ 33 لاکھ یا تقریباً بارہ فیصد ہے۔ ریاست کے 48 اسمبلی سیٹوں میں اٹھارہ پر دلت موثر رول ادا کرتے ہیں۔ 2014ء میں بی جے پی کی کامیابی میں دلتوں کے ووٹوں نے اہم رول ادا کیا تھا۔ دلت 2016ء میں پونے میں ایک لڑکی کی عصمت دری کے بعد دلتوں کو نشانہ بنانے سے پہلے ہی ناراض ہیں۔