1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: نئے سیاسی اتحاد کے اشارے

بھارت میں انتخابی عمل اب دھیرے دھیرے اپنے اختتام کی طرف پہنچ رہا ہے اور تمام بڑی سیاسی پارٹیاں انتخابات کے بعد ممکنہ سیاسی صورتحال کا انداز ہ لگانے اور اس کے مطابق اپنا لائحہ عمل طے کرنے پر توجہ دے رہی ہیں۔

default

حکومت سازی میں بائیں بازو کا محاز ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے

جمعرات کے روز عام انتخابات کے چوتھے مرحلے کی پولنگ ہونے والی ہے اور یہ بات تقرےباً طے ہوچکی ہے کہ کوئی بھی بڑی سیاسی پارٹی صرف اپنے بل بوتے پر آئندہ حکومت نہیں بناسکے گی ا ور بھارت میں آئندہ حکومت ایک مخلوط حکومت ہوگی۔ اس لئے ملک کی دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی چھوٹی اور علاقائی پارٹیوں کو اپنے دام میں لانے کے لئے سرتوڑ کوشش کررہی ہیں۔

Erste Parlamentssitzung - Rahul Gandhi

کانگریس کے رہنما نے بائیں بازو کے ساتھ اتحاد کے اشارے دیے ہیں

کانگریس پارٹی کے جنرل سکرٹری راہول گاندھی نے اسی سلسلے میں کل بائیں بازو کی جماعتوں، جنتا دل یونائیٹڈ اور تیلگو دسیم کی طرف پانسہ پھینکا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ خود کانگریس کے لئے الٹا پڑ گیا کیوں کہ اس کی حلیف جماعتوں راشٹریہ جنتا دل اور ترنمول کانگریس نے اس پر سخت اعتراض کیا ہے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور راہول گاندھی نے کہا تھا کہ آئندہ حکومت سازی کے لئے بائیں بازو کی حمایت کا متبادل کھلا ہوا ہے۔ ترنمول کانگریس کی رہنما ممتا بنرجی کو یہ کافی ناگوار گذرا ہے۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ اگر کانگریس نے آئندہ حکومت بنانے کے لئے بایئں محاذ سے حمایت لی یا کوئی معاہدہ کیا تو ان کی پارٹی کو کانگریس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔

اس نئی صورت حال نے اپوزیشن بھارتیہ جنتاپارٹی کو کانگریس پر حملہ کرنے کے لئے ایک اور موقع فراہم کردیا۔ بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ اپنے ہمدردوں اور ساتھیوں کو نیچا دکھانا کانگریس کی پرانی عادت ہے۔ انہوں نے کانگریس کی حلیف جماعتوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی کانگریس کا اصل چہرہ ہے اور یہی کانگریس کی پالیسی ہے کہ جس کے سہارے آگے بڑھے، جس کی مددسے ملک کو لوٹے اسے ہی دھکے دے۔

Vor den Wahlen in Neu Delhi PK der Kommunistischen Partei

کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اے بی بردھان اور ڈاکٹر راجا پارٹی کے منشور کا اجراء کرتے ہوئے



راہول گاندھی نے کہا تھا کہ بی جے پی کی قیادت والا این ڈی اے کا اب کوئی وجود نہیں رہ گیا ہے اور یہ صرف بی جے پی والوں کے ذہنوں تک باقی بچا ہے۔ بی جے پی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس کی قیادت والا متحدہ ترقی پسند اتحاد کو اپنا وجود بچانا مشکل پڑ رہا ہے۔

پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ صرف اڑیسہ میں نوین پٹنائک کی قیادت والی بیجو جنتا دل ہی این ڈی اے اتحاد سے الگ ہوا ہے جب کہ دوسری کئی پارٹیاں اس میں شامل ہوئی ہیں۔

ادھر کانگریس نے کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے میں یقین رکھتی ہے اور دعوی کیا کہ وہی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ملک میں اگلی حکومت بنائے گی۔

کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر اشونی کمار نے کہا کہ انتخابات کے نتائج سامنے آجانے کے بعد سب کو پتہ چل جائے گا کہ نئی حکومت کون اتحاد بنارہا ہے۔

دریں اثناء کانگریس پارٹی کے بیان پر بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی اسے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے کہا کہ کانگریس نے بہرحال یہ اعتراف تو کر ہی لیا کہ وہ الیکشن میں اکثریت حاصل نہیں کررہی ہے۔