1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: نئی خارجہ سیکرٹری اور پاک بھارت تعلقات

نروپما راؤ بھارت کی نئی خارجہ سیکرٹری کا عہدہ ایک ایسے وقت سنبھال رہی ہیں، جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ کیا وہ حالات بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کر پائیں گی؟

default

نوبر دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کے بعد پاک بھارت تعلقات کشیدگی کا شکار ہو گئے

نومبر دو ہزار آٹھ میں ہوئے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہو چکے ہیں گو کہ گزشتہ مہینے شرم الشیخ میں پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے درمیان ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے احیاء کا اعلان کیا گیا ہے۔ شرم الشیخ میں پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کے درمیان اِس بڑی حد تک کامیاب قرار دی جانے والی ملاقات کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پاک بھارت تعلقات کب معمول کی طرف آئیں گے۔

Manmohan Singh und Syed Yousuf Raza Gilani in Ägypten

پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کے درمیان مصر میں ہوئی ملاقات اور مشترکہ اعلامیے کو بھارت میں تنقید کا سامنا ہے

ایک طرف بھارت میں کانگریس کی حکومت کو پاکستان کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی پالیسی پر حزبِ اختلاف کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے تو پاکستان میں بھی یہ بات طے نہیں ہو پا رہی کہ بھارت سے کس نوعیت کے تعلقات رکھے جانے چاہییں۔ اس صورتِ حال میں کانگریس کی جانب سے مقرّر کی گئی نئی خارجہ سیکرٹری نروپما راؤ سے کیا توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں؟

نروپما راؤ اس ہفتہ باقاعدہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی۔ پیشے کے اعتبار سے نروپما راؤ ایک سول سرونٹ ہیں۔ مبصرین کے مطابق راؤ کے لیے مسائل کا انبار ہے اور خارجہ سیکرٹری کی حیثیت سے ان کی اولّین مشکل کانگریس حکومت کی پاکستان سے متعلق پالیسی کا داخلی سطح پر دفاع کرنا ہے۔ گو کہ راؤ کو بھارت کی نو منتخب حکومت میں شامل سیاستدانوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے اور اس حوالے سے وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا کا کردار انتہائی اہم ہے تاہم خارجہ سیکریٹریوں کا کردار کسی بھی حوالے سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کہا یہی جاتا ہے کہ خارجہ پالیسی طے کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے میں اصل اور مرکزی کردار خارجہ سیکرٹری ہی کرتے ہیں، جو کہ عموماً سول سرونٹ ہوتے ہیں۔

Bharatiya Janata Party President L.K.Advani

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ایل کے اڈوانی

بھارتی پارلیمان میں گزشتہ ہفتہ ممبئی حملوں میں پاکستان کے مبینہ کردار اور اس کے بعد شرم الشیخ میں کانگریس حکومت کی جانب سے پاکستان کو اچانک ’رعایت‘ دئے جانے پر گرما گرم بحث رہی۔ حزبِ مخالف جماعت، خصوصاً بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیا۔ حزبِ اختلاف کا موقف ہے کہ ممبئی حملوں میں ملوث عناصر کو پاکستان کی جانب سے سزا دئے بغیر کانگریس کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بعض حلقوں کا کانگریس حکومت پر الزام ہے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی امریکہ کے دباؤ میں آ کر کی ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی حکومت بارہا اپنی اس خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے کہ پاکستان کو اپنی صلاحیتیں ملک کے شمال مغرب میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف استعمال کرنی چاہییں۔ اس حوالے سے ملک کی مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ کشیدگی کو امریکہ ناپسند کرتا ہے۔

اس پیچیدہ صورتِ حال کو کسی بھی طور بھارتی خارجہ سیکرٹری نروپما راؤ کے لیے سہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

DW.COM