1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بھارت میں ہزارہا بچوں کا راتوں رات سٹار بننے کا خواب

آج کل بھارت میں گلوکاری، رقص اور طنز و مزاح تک کے مقابلوں کے ایسے ٹی وی پروگرام انتہائی شوق سے دیکھے جاتے ہیں، جن میں بچے ہی ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتے ہیں۔ یہ بچے راتوں رات سٹار بننے کے خواب دیکھتے ہیں۔

روبینہ علی قریشی ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ میں

روبینہ ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ میں

یہ خواب پورا تو ہوتا ہے لیکن ہزاروں میں سے چند ایک کے لیے، باقی سب کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ممبئی سے خبر رساں ادارے روئٹرز کے ایک جائزے میں 14 سالہ ریما چکرورتی کی کہانی بیان کی گئی ہے، جو ایسے ہی ایک ٹی وی شو کے آڈیشن کے سلسلے میں اپنے والدین کے ساتھ ممبئی آئی ہے۔

شام کے پانچ بجنے کو آ گئے ہیں لیکن ریما نے ابھی تک دوپہر کا کھانا نہیں کھایا ہے۔ چمکدار گلابی اور سبز لباس میں ملبوس ریما بار بار نظریں اٹھا کر اپنے والد سے شکایت کرتی ہے کہ اُسے سخت بھوک لگی ہے اور اُسے بخار بھی محسوس ہو رہا ہے۔

سارا دن ریما نے گلوکاری کے ایک ٹی وی شو کی سخت شوٹنگ میں گزارا ہے لیکن دن ابھی ختم نہیں ہوا۔ اُسے جلد ہی لباس تبدیل کر کے ایک بار پھر ججوں کے ایک پینل کے سامنے پیش ہونا ہے، جہاں ناظرین بھی بڑی تعداد میں موجود ہوں گے اور یہ سلسلہ مزید پانچ چھ گھنٹوں تک چلے گا۔

Zee ٹی وی کا پروگرام سارے گا ما پا لٹل چیمپئنز بے حد شوق سے دیکھا جاتا ہے

Zee ٹی وی کا پروگرام سارے گا ما پا لٹل چیمپئنز بے حد شوق سے دیکھا جاتا ہے

Zee ٹی وی کا یہ پروگرام سارے گا ما پا لٹل چیمپئنز بے حد شوق سے دیکھا جاتا ہے۔ زی ٹی وی کے اشیشش گول واکر کے مطابق یہ پروگرام اُن کے چینل کے کامیاب ترین پروگراموں میں سے ایک ہے۔ ریما اس پروگرام کے پندرہ سال سے کم عمر کے اٹھارہ لڑکے لڑکیوں میں سے ایک ہے۔ ہر ہفتے دو شرکاء کو پروگرام سے خارج کر کے گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ جیتنے والے لڑکے یا لڑکی کو زی ٹی وی کی طرف سے کنٹرکیٹ ملتا ہے اور اُسے موسیقی کے اُن پروگراموں میں شرکت کے مواقع ملتے ہیں، جو پورے ملک میں ٹی وی پر نشر ہوتے ہیں۔

ریما مغربی بنگال کے چھوٹے سے قصبے بہرام پور سے تقریباً دو ہزار کلومیٹر کا طویل سفر کر کے ممبئی پہنچی ہے۔ وہاں اُس کے والد انوپ چکرورتی کی مٹھائیوں کی ایک دکان ہے، جسے چھوڑ کر وہ تین ماہ کی فلم بندی کے لیے ممُبئی آن بیٹھا ہے تاکہ اپنی بیٹی کا شوق پورا کر سکے ۔ ساتھ ساتھ اُس کے لیے اور اُس کی بیٹی کے لیے اس پروگرام میں شمولیت ایک ایسا ٹکٹ ہے، جو اُن پر ایک شاندار مستقبل کے دروازے کھول سکتا ہے۔

صرف زی ٹی وی کے شو سا رے گا ما پا لٹل چیمپئنز کے لیے ہی پندرہ سال سے کم عمر کے تقریباً پچاس ہزار لڑکے لڑکیوں نے آڈیشن دیا ہے۔ ان میں سے مشکل سے اٹھارہ فیصد کا تعلق شہر ممبئی سے ہے، جہاں اس پروگرام کی شوٹنگ ہوتی ہے۔ باقی تمام بچے اور اُن کے گھر والے ملک کے دور دراز سے تھکا دینے والا سفر طے کر کے ممبئی پہنچتے ہیں۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس